مودی سرکار کے ظلم کے 34 روز،انسانی حقوق پامال

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جہاں گزشتہ روز مسلسل پانچویں ہفتے بڑی اور اہم مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی روک دی گئی وہیں محرم الحرام کے روایتی جلوسوں پر بھی پابندیاں عائد کردی گئیں جب کہ خوف زدہ بھارتی حکومت نے وادی میں مزید فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر آئینی عمل کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 34 روز سے کرفیو نافذ ہے، ذرائع آمدو رفت معطل، مواصلاتی نظام منقطع اور کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جس کے باعث کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ ستم بالائے ستم غذائی بحران اور ادویات کی قلت نے کشمیریوں کو سخت اذیت سے دو چار کر رکھا ہے۔

سخت ترین پابندیوں کے باوجود بہادر کشمیری موقع ملتے ہی سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جذبہ آزادی سے سرشار ہو کر بزدل مودی سرکار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں،  قابض بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار نہتے مظاہرین کو پیلٹ گنز، گولیوں اور آنسو گیس شیلنگ کا نشانہ بناتے ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

دوسری جانب اسیر حریت رہنماؤں نے کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنانے کے لیے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہری اپنی جائیداد بھارتیوں کو کسی صورت نہ بیچیں۔ قابض بھارتی فوج نے مزید 29 کشمیری شہریوں کو ریاست اتر پردیش کے علاقے آگرہ جیل منتقل کر دیا ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept