مقبوضہ وادی :شدید لاک ڈاؤن، ہسپتال بند ہونے کا خطرہ

یڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں مریضوں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن طبی سہولیات عام دنوں کے مقابلے میں آدھی رہ گئی

مقبوضہ کشمیر میں شدید لاک ڈاؤن کے باعث ہسپتال بھی بند ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں مریضوں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن طبی سہولیات عام دنوں کے مقابلے میں آدھی رہ گئیں۔  قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں 36 روز بعد بھی مقبوضہ جموں کشمیر کا محاصرہ جاری ہے۔ نہ ختم ہونے والے کرفیو اور ذرائع ابلاغ کی مکمل بندش کے باعث ہسپتال بند ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقامی ہسپتالوں میں مریضوں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن طبی سہولیات سپلائی نہ ہونے کے باعث آدھے سے بھی کم رہ گئی۔

ہسپتالوں کے باہر بیٹھے مریضوں کو یا تو اپنی باری کا انتظار ہے یا پھر موت کا۔ ذرائع ابلاغ پر پابندی کے باعث مریضوں کو ایمبولینس بھی دستیاب نہیں ہیں۔ شہری میلوں دور سے اپنے مریضوں کو اسکوٹرز پر بیٹھا کر ہستپال تو پہنچا دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور علاج میسر آئیں گے یا نہیں؟ یہ مریض کی قسمت پر منحصر ہے۔ جو گھر سے باہر ہیں ان کی خبر گھر والوں تک نہیں پہنچتی اور جو کشمیر سے باہر نہیں ان کو اپنے گھر کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔ ہر طرف ایک افراتفری کا عالم ہے۔ ہسپتالوں میں قیامت کا منظر ہے اور مظلوم کشمیری کسی مسیحا کی راہ تک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept