’ممی ڈیڈی‘ طلبا کے ڈوپ ٹیسٹ کا فیصلہ

پاکستان کے بیشتر بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ملک کی کئی اہم پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کاڈوپ ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے ملک کے نامور پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے ڈگری یافتہ نوجوانوں کی اکثریت منشیات کی عادی پائی گئی جس کی وجہ سے ان میں کام کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ بڑے تعلیمی اداروں اورامیر والدین کی اولاد ڈگری کے بعد نوکری توحاصل کرلیتی ہے لیکن انہیں کام سے ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔ان میں سے اکثر نوجوان ملازمت کے دوران لڑائی جھگڑوں میں بھی ملوث ہیں ۔ نہ صرف ملازمت سے پہلے ایسے نوجوانوں کے ڈوپ ٹیسٹ کئے جائیں گے بلکہ دوران ملازمت میں ٹیسٹ کرائے جائیں گے تاکہ اداروں کو ایسے نشئی افراد سے چھٹکارا مل سکے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا کی اکثریت دوران تعلیم منشیات استعمال کرتی ہے اور ان کی یہ عادت کالج ،یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔اس سلسلے میں کئی تعلیمی اداروں کو تحریری اطلاع بھی دے دی گئی ہے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept