بینظیر انکم سپورٹ ، 5 ارب غریبوں کی پہنچ سے دور

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس ‘مسلم لیگ ن کے دور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 5ارب غریب لوگوں میں تقسیم نہ ہوسکے۔ 

پبلک اکاؤنٹس کی کمیٹی کا اجلاس شیری رحمان کی کنوینئر شپ میں ہوا۔ اجلاس میں رکن بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے پوچھا کہ پانچ ارب روپے غریب لوگوں کے پڑے رہے تقسیم کیوں نہ ہوئے اور سوچیں پانچ ارب روپے سے مستفید ہونے والے لوگوں کا گزارہ کیسے ہوا ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم شہروں میں اکیسیویں اور دیہاتوں میں اٹھارہویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان پوسٹ کے خلاف تو اس لاپرواہی پر ایکشن ہونا چاہیے۔

شیری رحمان نے کہا کہ لوگ ایک ایک سو روپے کو ترستے ہیں اور آپ پانچ ارب تقسیم نہ کر سکے، ایک ہفتے میں تفصیلی جواب پی اے سی کو فراہم کریں۔ حکام نے بتایا کہ 75لاکھ مستحقین میں سے چوہتر ہزار لوگوں کو پیسے نہیں مل سکے اور پیسے تقسیم نہ ہو سکنے کی کئی وجوہات ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے 57 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے کارڈ ہولڈرز کو جو رقم تقسیم نہیں ہو سکی وہ واپس قومی خزانے میں جمع کرا دی ہے۔ ہمارے پاس ابھی اتنی استعداد نہیں کہ ہم بینکوں سے اتنے افراد کا ڈیٹا جمع کر سکیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ہم نے اپنی صلاحیت بڑھائی ہے لیکن ابھی بہت کام کرنا ہے۔شیریں رحمان نے کہا کہ بی آئی ایس پی ایسا ادارہ ہے جس کو بین الاقوامی طور پر سراہا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک جیسے ادارے بی آئی ایس پی کو غربت کم کرنے کا بڑا موثر پروگرام سمجھتے ہیں۔ بی آئی یس پی کی سہولت سے مستفید ہونے والے افراد کے لئے سو روپے بھی بہت اہم ہیں۔ یقیناً آپ کے سسٹم میں کہیں خرابی ہے کہ لوگوں کو یہ رقم نہیں پہنچ سکی ہے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept