مقبوضہ کشمیر میں جھڑپیں ، 4 مجاہدین شہید

 شمالی و جنوبی کشمیر میں مجاہدین اور قابض بھارتی فوج کے مابین دو الگ الگ معرکہ آرائیوں کے دوران چار مجاہدین شہید ہوگئے ،پولیس نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں جنگجوؤں اور فورسز کے مابین جو معرکہ آرائی جاری تھی وہ اختتام پذیر ہوگئی ہے اور اس میں فورسز کے ہاتھوں جو تین جنگجو جاں بحق ہوگئے ،ان کی شناخت ہوگئی ہے۔پولیس نے جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت سجاد کھانڈے،عاقب احمد ڈار اور بشارت احمد میر کے طور کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ضلع پلوامہ کے باشندے تھے۔ حز ب المجاہدین کے ترجمان کے مطابق تینوں مجاہدین کا تعلق ان کی تنظیم سے تھااس سے قبل شوپیان ضلع کے کیلر علاقے میں جمعرات کی صبح جنگجوؤں اور فورسز کے مابین معرکہ آرائی کا آغاز ہوا جس کے دوران تین عسکریت پسند مارے گئے۔

شوپیان کیلر کے جنگل میں واقع یارون نامی علاقے میں پیش آیا۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ فوج نے یارون جنگل علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیاں شروع کیں جس کے دوران فورسز اور جنگجوؤں کا آمنا سامنا ہوگیا اور طرفین نے ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔پولیس نے کہا کہ فورسز کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ جنگجو شمالی کشمیر کے یارو لنگیٹ ہندواڑہ علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور فورسز نے مشترکہ طورپر فورا اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی۔ جبکہ پلوامہ ، شوپیاں، کولگام ، بیج بہاڑہ ، سوپور اور ہندواڑہ کے علاقوں میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے ۔

بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ گنز اور آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام کے طلباء نے بھی کالج کیمپس میں بھارت مخالف مظاہرے کئے۔ فوجیوں نے ضلع کولگام کے علاقے ٹنگ بل کجر میں ایک مکان کو آگ لگا دی ۔قابض انتظامیہ نے سوپور ، ہندواڑہ اور کپواڑہ کے علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی جبکہ تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ سوگواران نے آزادی کے نغمے گاتے ہوئے شہید کی میت کے ہمراہ قبرستان کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران مجاہدین کے ایک گروپ نے نمودار ہو کر فضائی فائرنگ کر کے شہید نوجوان کو سلام پیش کیا۔سرینگر کے علاقے آلوچی باغ میں واقع بھارتی فوجی بنکر کے قریب ایک زوردھماکے میں ایک مکان اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچاہے۔

You might also like