26 سابق افسران کو پاک فوج کا این او سی جاری

پاک فوج نے 26 سابق افسران کو ٹاک شوز میں بطور دفاعی تجزیہ کار شریک ہونے کیلئے کلیئرنس دے دی۔میڈیا چینلز کرنٹ افیئرز میں تجزیہ کے لیے اب صرف انہی سابقہ افسران سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

اس فہرست میں سات سابق لیفٹننٹ جنرل کے نام ہیں جن میں معین الدین حیدر، امجد شعیب، خالد مقبول ، نعیم خالد لودھی، آصف یاسین ملک ، رضا احمد اوراشرف سلیم شامل ہیں۔

دیگر 19 افراد میں میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان، میجر جنرل (ر) غلام مصطفیٰ ، بریگیڈیئر (ر) سعد رسول ، بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید ، بریگیڈیئر (ر) غضنفرعلی ، بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن ، بریگیڈیئر (ر) نادرمیر، بریگیڈیئر (ر) اسد اللہ، بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون ، بریگیڈیئر (ر) حارث نواز ، بریگیڈیئر (ر) سید نذیر ، بریگیڈیئر (ر) سیمسن سائمن شرف ، ایڈمرل (ر) احمد تسنیم ، ایڈمرل (ر) شاہد لطیف ، ایڈمرل (ر) اکرام بھٹی ، ایڈمرل (ر) مسعود اختر ، ایڈمرل (ر) ریاض الدین شیخ ، ائروائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری اور ائر کموڈور (ر) سجاد حیدر شامل ہیں۔

پاک فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان افسران کے خیالات، تبصرے اور رائے ذاتی تصور کی جائے گی اور ادارے سے منسوب نہیں ہوگی۔ان تمام افسران کو پاک فوج کی جانب سے ٹی وی پر آنے کیلئے 31 دسمبر 2019 تک کا این او سی جاری کیا گیا ہے۔پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے 4 اپریل 2019 کو تمام ٹی وی چینلز کویہ ہدایت جاری کی گئی تھی کہ نیوز یا کرنٹ افیئرز کے پروگرام میں کسی بھی ریٹائرڈ ملٹری افسر کو بطور دفاعی تجزیہ کار دعوت دینے سے قبل اپاک فوج سے کلیئرنس لی جائے۔