نجم سیٹھی کا آئی ایم ایف سے متعلق بڑا دعویٰ

تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی آئی ایم ایف حکام سے یہ ملاقات کامیاب نہیں رہی کیونکہ انہوں نے ایسی شرائط عائد کیں جو نوے فیصد پوری ہو گئی ہیں لیکن 10فیصد ابھی پوری نہیں ہوئیں ،ڈیڑھ مہینے سے 10فیصد معاملات پھنسے ہوئے ہیں ۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ وہ دس فیصد یہ ہیں کہ امریکہ نے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ آپ نے ہماری سٹریٹجک پالیسی پر عمل کرنا ہے ،امریکہ کی ساوتھ ایشیا کے لیے سٹریٹجک پالیسی یہ ہے کہ افغانستان سے نکلنا ہے اور انڈیا کے ساتھ ان کی سٹریٹجک پالیسی ہے ،پاکستان کو ٹائٹ کرنا ہے ،ابھی پاکستان امریکہ کو پوری طرح وہ چیز نہیں دے پا رہا جو وہ چاہتے ہیں ۔نجم سیٹھی نے بتا یا کہ امریکہ افغانستان سے با عزت طریقے سے نکلنا چاہتا ہے اور ان کے مہرے کہیں نہ کہیں رہ جائیں ،جو کہ پاکستان گارنٹی نہیں کر سکتا نہ ہی اس کے لیے طالبان کو آمادہ کر سکتا ہے ،اوپر سے طالبان کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں ،ایسا لگتا ہے کہ اس سال کے آخر میں یا اگلے سال امریکہ کو بھاگنا پڑے گا ۔تجزیہ کار نے کہا کہ اس لیے امریکہ نے آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ ٹائٹ کر کے رکھو ،آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ سی پیک سے متعلق سارے کنٹر یکٹ کھولیں ہمارے سامنے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان یہ طے پا یا تھا کہ یہ کنٹریکٹ چھپے رہیں گے ،عمران خان بھی پہلے کہتے تھے کہ یہ کنٹریکٹ شو کرو لیکن جب خود حکومت میں آئے اور چین گئے تو پتہ لگا کہ یہ کنٹریکٹ شو نہیں ہو سکتے ۔انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہیں ہمارے پیسے چین کے پاس نہ چلے جائیں کیو نکہ پاکستان نے چین سے ساٹھ ارب ڈالر کے قرضے لیے ہوئے ہیں ،ہماری حکومت نے چینی ڈیویلپمنٹ کو روک دیا ہے ،چین ناراض ہے اور اوپر سے وہ کہہ رہے ہیں کنٹریکٹ دکھائیں ۔انہوں نے بتا یا کہ امریکہ کنٹریکٹ اس لیے دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ چینی قرضوں کی واپسی کب کرنی ہے۔

نجم سیٹھی نے بتا یا کہ دوسری بات وہ یہ کر رہے ہیں کہ پر امن مقاصد کے لیے جو نیو کلیئر پروگرام کی جو ڈیویلپمنٹ ہو رہی ہے ،چین سے حاصل کردہ نیو کلیئر ریکٹر لگا رہے ہیں ،اس کی کیا شرائط ہیں ؟وہ بھی دیکھائیں ۔