ملک کو معاشی و سماجی مشکلات کے چیلنج کا سامنا ہے:چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ سوچنا ہوگا کہ کیا معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے؟ سپریم کورٹ بار کی جانب سے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کو معاشی و سماجی مشکلات کے چیلنج کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے؟ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہا کہ پولیس کا پہلا فرض عوام کی خدمت ہے، پولیس اصلاحات کمیٹی میں جانے مانے ماہرین شامل کیے گئے ہیں، یہ کمیٹی جنوری میں بنائی گئی، پولیس کے خلاف شکایات کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایس پی شکایات کے پاس پولیس کے خلاف ہر قسم کی شکایات آتی ہیں، اب تک وہ 21 ہزار سے زائد شکایات پر احکامات دے چکے ہیں۔ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ملک کے ہر ضلع میں ماڈل کورٹس قائم کیں، ماڈل کورٹس نے 12 دن میں 1618 مقدمات کے فیصلے کیے، فوری انصاف کے لیے ابھی نظام بدلا نہ ہی قانون اور نہ وکلا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ نے گزشتہ 3 ماہ میں 2 لاکھ مقدمات نمٹائے، جنوری میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 40 ہزار سے زائد تھی، آج یہ 38 ہزار رہ گئی، سپریم کورٹ میں 2019 میں دائر فوجداری اپیلوں کی سماعت ہو رہی ہے، جب کہ فوجداری مقدمات کی تمام زیر التوا اپیلیں نمٹائی جا چکی ہیں، اور اب صرف 581 فوجداری اپیلیں رہ گئی ہیں۔