قائمہ کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ہونے کا انکشاف

سندھ میں قائمہ کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن کے غیر قانونی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس سلسلے میں پی ٹی آئی رکن ارسلان تاج نے سیکریٹری سندھ اسمبلی کو خط لکھ دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبہ سندھ میں قائمہ کمیٹیوں کا نوٹیفکیشن غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا، تحریک انصاف کے رکن ارسلان تاج نے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کو خط لکھ کر نوٹیفکیشن کے اجرا پر اعتراض کر دیا۔

ارسلان تاج حسین نے خط میں سیکریٹری سندھ اسمبلی کو لکھا کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار قائم مقام اسپیکر کے پاس ہے، آپ نے کس اختیار کے تحت از خود نوٹیفکیشن جاری کیے؟پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ آر او کے طور پر آپ کا کردار سندھ اسمبلی رولز میں واضح ہے، آپ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن سندھ اسمبلی کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

20 مارچ کو سندھ اسمبلی کی 34 قائمہ کمیٹیوں میں سے 22 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے، جن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا۔ ان قائمہ کمیٹیوں کے لیے پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دو جماعتوں ٹی ایل پی اور ایم ایم اے کے اراکین منتخب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی، ایم کیوایم پاکستان اور جی ڈی اے نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔