چمگادڑوں کی نسل خطرے میں

شہروں کی چکا چوند روشنیوں، شور اورپھلداردرختوں کی کمی کے باعث ماحول دوست سمجھے جانے والے چمگادڑوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

لاہورمیں گورنرہاؤس اورباغ جناح کے چند درختوں پر چمگادڑلٹکے دکھائی دیتے ہیں، ماہرین ماحولیات نے خبردارکیاہے کہ چمگادڑوں کی تعداد میں کمی سے قدرتی ایکوسسٹم متاثرہورہا ہے۔لاہورکے باغ جناح کے چند درختوں پر کئی برسوں سے چمگادڑ ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں، درختوں کی شاخوں کے ساتھ دن بھرالٹالٹکے رہنے والے یہ چمگادڑ ساری رات خوراک کی تلاش میں اڑتے ہیں، یہ واحد ممالیہ جانور ہے جو اْڑ سکتا ہے لیکن عام پرندوں کی طرح چل نہیں سکتا ہے۔

اس جانور کو ماحول دوست اور کسان دوست مانا جاتا ہے، دنیا بھر میں چمگادڑوں کی 1300 کے قریب اقسام ہیں جن میں سے اکثریت کی خوراک کیڑے مکوڑے، پتنگے اور تازہ پھل ہیں، چمگادڑ فصلوں کو تباہ کرنیوالے کیڑے مکوڑے کھا کے کسانوں سے دوستی نبھاتے ہیں تو پودوں کی پولی نیشن میں تعاون کرکے ماحول دوستی کا ثبوت دیتے ہیں۔ چمگادڑیں غذائی زنجیر میں تعاون برقرار رکھنے کیلیے بھی اہم ہیں۔

You might also like