شہباز شریف کی واپسی ، حمزہ کی گرفتاری، ہو گا کیا ؟ صحافی وکالم نویس کامران گورائیہ نے بتا دیا

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی برطانیہ سے وطن واپسی اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی گرفتاری معنی خیز قرار دے دی گئی ۔ سینیئر صحافی و کالم نویس کامران گورائیہ نے آنے والے دنوں میں کیا ہو گا سب بتا دیا۔

کامران گورائیہ نے شہباز شریف کی واپسی اور حمزہ شہباز کی گرفتاری پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں جاری تھیں بعض لوگوں کا موقف تھا کہ وہ علاج ومعالجہ پر ان کی تاخیر کا مطلب ملک کے مقتدر حلقوں پر پریشر بڑھانا تھا کہ انہیں این آر او دیا جائے۔ جبکہ بعض حکومتی حلقے اس رائے کا اظہار کر رہے تھے کہ شہباز شریف کو این آر او حاصل کونے میں مکمل ناکامی ہو چکی تھی اسی لئے وہ واپس آئے ہیں کیونکہ اگر وہ اتنے طویل عرصہ تک برطانیہ سے وطن واپس نہ آتے تو ان کا سیاسی مستقبل مکمل طور پر ختم ہو جاتا ۔

کامران گورائیہ اپنے تجزیہ میں مزید لکھتے ہیں کہ اگر میاں شہباز شریف کا واپس آنا ناگزیر ہی تھا تو وہ 2 ماہ سے زائد عرصہ تک برطانیہ میں کیا صرف علاج ہی کروا رہے تھے لیکن شہباز شریف نے اچانک بجٹ سے عین 2 روز قبل واپس آکر جہاں حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی وہیں سیاسی رہنمائوں کو بھی حیرت زدہ کر دیا ۔ شہباز شریف کی وطن واپسی معنی خیز ہے جس پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔

اسی طرح پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کا ڈرامائی طور پر خود کو نیب کے روبرو گرفتاری کیلئے ہیش کر دینا بھی تعجب انگیز ہے۔ حیرت انگیز طور پر حمزہ شہباز نے ضمانت میں مزید توسیع کیلئے درخواست نہیں دی بلکہ اچانک ہی رضا کارانہ طور پر خود کو نیب کے حوالے کر دیا ۔

کامران گورائیہ مزید لکھتے ہیں کہ سب کو معلوم تھا کہ اگر آج ضمانت میں توسیع کیلئے درخواست جمع نہیں کروائی گئی تو حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔ سوشل میڈیا کے برق رفتار اثرات ہی کا نتیجہ ہیں کہ اب ہر خاص و عام کو ملک بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی صورت حال کا علم ہر خاص و عام کو بلا تاخیر ہو جاتا ہے۔

عمران خان حکومت کی نئی معاشی ٹیم بھی مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔ اس صورت حال میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ بالخصوص شریف برادران کی سیاسی منظر نامہ پر اہم کرداروں کی حیثیت سے واپسی کے امکانات بڑھ چکے ہیں ۔ حالیہ گرفتاریوں کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس کا فیصلہ جلد ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept