معاشی معاملات بھی فوج کے حوالے،انتہائی قدم کیوں اُٹھایا گیا

حکومت کی ناقص صورتحال کے پیش نظر ملک کے معاشی معاملات بھی فوج نے سنبھال لئے اور یہ اقدام کیوں اُٹھایا گیا اندرونی کہانی منظرعام پرآگئی کھوج نیوز

حکومت کی ناقص صورتحال کے پیش نظر ملک کے معاشی معاملات بھی فوج نے سنبھال لئے اور یہ اقدام کیوں اُٹھایا گیا اندرونی کہانی منظرعام پرآگئی کھوج نیوز ذرائع کے مطابق

سیاسی منظر نامے پر بہت کچھ ہو رہا ہے، نظریں سپریم جوڈیشل کونسل پر ہیں جو فی الوقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اس ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے جو صدر مملکت نے دائر کیا ہے، کچھ حلقوں میں وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی حالیہ بھرتیوں پر بھی بحث و مباحثہ ہو رہا ہے لیکن جو بات ملک میں کئی لوگوں اور حکومت کی قسمت کا فیصلہ کرے گی وہ ہے معیشت۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اہم شخصیت نے چند ماہ قبل اپنی رہائش گاہ پر نون لیگ کے تین سینئر رہنمائوں سے ملاقات کی۔

بات چیت کا موضوع ملکی معیشت تھا اور اہم شخصیت کو خبردار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت معاشی بحران کو مزید خراب کر دے گی اور یہ صورتحال معاشی تباہی پر منتج ہو سکتی ہے۔ بعد میں، وزیراعظم نے اپنی معاشی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کیں لیکن معاشی اشاریے بدستور کئی لوگوں کیلئے مایوسی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جس طرح نون لیگ کے رہنمائوں نے اہم شخصیت کو خبردار کیا تھا بظاہر آج ویسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اگرچہ وزیراعظم عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کو ناگزیر ڈیفالٹ سے بچا لیا گیا ہے اور مشکل مرحلہ نکل چکا ہے، لیکن معاشی اشاریے اور سرکاری رپورٹس اور ساتھ ہی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مسلسل گرتی قدر وزیراعظم کے دعوے سے میل نہیں کھاتی۔ وزیراعظم کے بیان سے بالکل الٹ، حکومت نے اب ’’معاشی سلامتی کونسل‘‘ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال کو خصوصاً ایسے منظر نامے میں بہتر بنایا جا سکے جہاں بین الاقوامی طاقتوں نے کھل کر اپنی گندیں چالیں چلنا شروع کر دیا ہے

You might also like