رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر ان کی اہلیہ کا تہلکہ خیز بیان

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میری گاڑی میں چار افراد بیٹھ گئے ،میں نے سوچا شائد مجھے گرفتار کر کے نیب آفس لے جارہے ہیں

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثنا ء نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے اپنی گرفتاری کے بعد مجھے بتایاکہ میری گاڑی راوی ٹول پلازہ کے پاس پہنچی تو اس وقت میں سور ہاتھا،اچانک میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے گارڈ ز کوکچھ لوگوں کے ساتھ جھگڑتے دیکھا اوران کی آوازیں سنیں،اس وقت کئی ڈالے میری گاڑی کے پاس کھڑے تھے۔ نبیلہ نثاء نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ اچانک میری گاڑی میں چار افراد بیٹھ گئے اور ڈرائیور کوگاڑی چلانے کا کہا،میں نے سوچا کہ شائد مجھے گرفتار کر کے نیب آفس لے جارہے ہیں لیکن جب نیب آفس گزر گیاتو میں نے پوچھا کہ مجھے کہا ں لے جارہے ہو؟تو ان کی جانب سے کہا گیا کہ ہم آپ کو اے این ایف کے دفتر لے جارہے ہیں۔

نبیلہ ثناء کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ نے مجھے بتایاکہ جب مجھے اے این ایف کے دفتر بٹھا دیا گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ دو بیگ پڑے ہوئے تھے،ایک میں چرس اور دوسرے بیگ میں آئس تھی،موقع پر موجود اہلکار کہنے لگے کہ کیا چیز ڈالنی ہے رانا ثنا ء اللہ پر؟ جس پر ایک نے کہا کہ چرس ڈال دیتے ہیں تو دوسرے نے کہا کہ نہیں یہ بیگ بڑا ہے،رانا صاحب پر ہیروئن ڈال دیتے ہیں جو 15کلو آئس ہیروئن ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے سے کہا کہ آپ حوالات میں جاکر کھڑے ہوجائیں، آپ کی تصویر اتارنی ہے جس پر میں نے انکار کردیا لیکن ان کی منت سماجت کرنے پر میں حوالات میں جا کرکھڑ ے ہوا اور انہوں نے میری تصویر لی۔ نبیلہ ثناء نے کہا کہ اس وقت ہماری کوئی بات نہیں سن رہا، ایسے میں اب ہم کیا کریں؟۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept