احتساب کا عمل بے نقاب ہوچکا

احتساب کا بیانیہ بری طرح سے بے نقاب ہوچکا ہے اورپوری طرح ہل چکا ہے۔ پاکستانی سیاست مسلسل زلزلوں کی زد میں ہے

ANEES AKHTAR

تحریر: (انیس اختر) احتساب کا بیانیہ بری طرح سے بے نقاب ہوچکا ہے اورپوری طرح ہل چکا ہے۔ پاکستانی سیاست مسلسل زلزلوں کی زد میں ہے۔ طے کرنا مشکل ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے لیکن یہ طے ہے کہ ایک دفعہ پھر عدالت میں فائز منصف پر کڑے اور ٹھوس سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پہلے مریم نواز نے ایک ویڈیو اپنی پریس کانفرنس میں نشر کی، پھر جج صاحب کی ایک پریس ریلیز اور پھر سسپنس تھرل سے بھرپور بیانِ حلفی۔

کچھ الجھن بھی ہے کہ کس نے کس کو رشوت دی یا آفر دی، کس نے کس کے کہنے پر کس پر دباؤ ڈالا وغیرہ وغیرہ۔ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور قابلِ تحسین ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نہایت سنجیدہ اور مناسب طریقے سے اس معاملے کو ڈیل کر رہی ہے نہ کہ ماضی کی طرح کسی ہیجان یا افراتفری کا شکار ہو کر۔ اخلاقی طور پر کمزور شخص انگریزی والا Vulnerable ہوتا ہے۔ وہ آسانی سے اپنے وقار پر سمجھوتہ کر لیتا ہے لیکن اگر عقلمند ہو تو خود کو بچا بھی سکتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں جج صاحب دونوں ہی ثابت ہوئے، اخلاقی طور پر کمزور بھی اور بہت حد تک ناسمجھ بھی۔

ارشد ملک کا بیانِ حلفی بنیادی طور پر دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اعترافات اور الزامات۔ دونوں ہی سنگین نوعیت کے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ الزامات کے لئے ثبوت چاہئیں، اعترافات بغیر ثبوت کے ہی تسلیم کر لئے جاتے ہیں۔ الزامات ثابت کرنا تو انتہائی مشکل ہیں کیوں کہ ان کے لئے ثبوت چاہئیں، جو کہ شاید ہی ارشد ملک کے پاس ہوں۔ جج صاحب کا یہ کہنا تو بالکل غلط ہے کہ وہ دباؤ کا شکار نہیں ہوئے۔ وہ متعدد بار دباؤ میں آئے اور خود کو مزید کمپرومائزنگ پوزیشن میں ڈالا۔

وہ الزام تو لگاتے ہیں کہ ان پر کئی دفعہ غیراخلاقی ویڈیو دکھا کر دباؤ ڈالا گیا ساتھ ہی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ایک سے زائد دفعہ دباؤ کا شکار ہوئے۔ پہلی دفعہ تب جب ان کی مرضی کے بغیر انہیں جاتی امراء لے جایا گیا اورنواز شریف سے ملاقات کروائ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کہ ارشد ملک نے کیوں اپنے ہی فیصلے میں قرار دئیے گئے مجرم سے اس کے گھر پر ملاقات کی۔ اور میاں محمد نواز شریف جو کہ اس ملک کے تین سے زائد دفعہ وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں انہوں نے بھی جج سے ملاقات کیوں کی۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ غلط ہے، کسی اجتماع میں ملاقات ہونا ایک بات ہے لیکن خصوصاََ ملنے گھر جانا اور بلانا سنگین فعل ہیں۔ دوسری دفعہ تب جب اپیل کے ڈرافٹ کو انہوں نے خود ریویو کیا اور اپنی رائے دی۔ یہ سنگین نوعیت کی کا مِس کنڈکٹ ہے کہ کوئی جج کیسے اپنے ہی فیصلے کے خلاف اپیل کو مقدمے کی پارٹی کے لئے ریویو کر سکتا ہے۔ تیسری دفعہ تب جب مدینے میں انہیں زبردستی حسین نواز سے ملوانے لے جایا گیا۔ قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ جب انہیں علم ہو چکا تھا کہ ان کی باتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں تو وہ اس کے بعد جاتی امراء گئے ہی کیوں یا شاید موقع دینا چاہتے تھے کہ بہتر آڈیو ریکارڈ کی جا سکے۔

قانون یہ کہتا ہے کہ جب بھی کسی جج کو مقدمے کی پارٹی کی طرف سے رشوت یا دھمکیاں دی جائیں تو وہ فوراََ اپنے سے سینئیر جج کو آگاہ کرے تاکہ مناسب چارہ جوئی کی جا سکے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی جنہوں نے الزامات لگائے تھے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے لوگ اپنی مرضی کے فیصلے ججز سے لکھواتے ہیں۔ جس پر ان پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی بھی ہوئی۔ فیصلے میں یہ لکھا گیا کہ جج شوکت صدیقی کو واقعتاََ اگر ایسی کوئی پیشکش ہوئی تھی تو انہوں نے فوراََ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو آگاہ کیوں نہیں کیا ، آگاہ نہ کرنے پر بھی وہ ایک مِس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مذکورہ کیس میں معاملہ زیادہ دلچسپ یا کہہ لیں سنگین ہے۔ نواز شریف کے خلاف اس ریفرنسز میں مانیٹرنگ جج سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن صاحب تھے۔ ارشد ملک کے مطابق ان سے اس کیس میں 8 دفعہ واسطہ یا بلاواسطہ رابطہ کر کے دھمکیاں اور بھاری رشوت کی پیشکش کی گئی۔ لیکن انہوں نے ایک دفعہ بھی اعجاز الاحسن صاحب کو آگاہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ ہی چیز ان کے کردار کو مشکوک بناتی ہے اور وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔

اس سب اسکینڈل یا مبینہ سازش کے پیچھے جس میں حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے خوامخواہ خود کو پارٹی بنانے پر تلی بیٹھی ہے۔ نیب ایک آزاد ادارہ ہے جس کے معاملات کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت اس سے منسوب ہر معاملے میں اس کا دفاع کرنے آ پہنچتی ہے اور خود کو مزید مشکلات کا شکار بنا لیتی ہے۔ بہتر ہے حکومت خود کو الگ رکھے اور سکون سے اپنی گورننس پر توجہ دے۔

محسوس یہ بھی ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز بھی نہیں چاہتی کہ اس میں کوئی آزادانہ انکوائری ہو۔ تب ہی مریم نواز نے اس درخواست پر ایک معنی خیز ٹویٹ بھی کیا ہے۔ درخواست گزار اشتیاق احمد نے نواز شریف کی تقریر کے خلاف ایک درخواست پہلے بھی دائر کی تھی۔ کیوں کہ عدالت میں بغیر ایڈٹ یا کٹ کی ہوئی مکمل ویڈیو دینی پڑے گی اور ایسا کرنے کی صورت میں ممکن ہے جج صاحب کے عائد کردہ الزامات کے متعلق کوئی ثبوت یا حقیقت واضح ہو جائے۔ ابھی تک کی کاروائی سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ مریم نواز ان ویڈیوز کو سیاسی طور پر ہی کھیلنا چاہتی تھیں۔ وہ نہیں چاہتی کہ باقاعدہ کوئی تحقیقات ہوں تب ہی ان کے کیمپ میں اس سب کو لے کر بےچینی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ 16 جولائی کو اس معاملے سے متعلق درخواست سننے جا رہی ہے۔ اس معاملے کی آزادانہ چھان بین ہونی چاہئے ساتھ ہی جن لوگوں نے بھی جج صاحب کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی خواہ وہ شریف خاندان ہو یا کوئی اور ان کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئے۔ یہ معاملہ بھی آصف زرداری کیس کی طرح قالین تلے نہیں دبنا چاہئے۔ جس میں جج کو تو فارغ کر دیا گیا اور کیس دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا۔ لیکن جن لوگوں نے جسٹس قیوم پر دباؤ ڈالا ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس دفعہ انصاف مکمل ہونا چاہئے

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept