نواز شریف کو ریلیف کیسے ملے گا، چیف جسٹس نے طریقہ بتا دیا

کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا، شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی ریلیف دے سکتی ہے

سابق وزیراعظم میا ں نواز شریف کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی متنازعہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہوئے چیف جسٹس اصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو ریلیف اسلام آباد ہائیکورٹ سے مل سکتا ہے جہاں پر ان کی اپیل پہلے ہی سے موجود ہے۔

جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کوئی کمیشن احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا جب کہ شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں ایک آپشن آپ نے ایف آئی اے اور دوسرا نیب قانون کا دیا ہے، تیسرا آپشن تعزیرات پاکستان اور چوتھا پیمرا قانون کا دیا ہے، پانچواں آپشن حکومتی کمیشن اور چھٹا جوڈیشل کمیشن کا ہے جب کہ آخری آپشن یہ ہے کہ عدالت خود فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا، شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتا ہے فیصلہ نہیں، کیا سپریم کورٹ کی مداخلت کا فائدہ ہو گا یا صرف خبریں بنیں گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جانا درست ہے، کیا مجرم کے رشتے داروں اور دوستوں سے گھر اور حرم شریف میں ملنا درست ہے، فکر نہ کریں جج کے کنڈکٹ پر خود فیصلہ کریں گے، کسی کے کہنے پر ایکشن نہیں لیں گے، وزیر اعظم نے بھی کہا عدلیہ از خود نوٹس لے، کچھ کرنا ہوا تو دیکھ اور سوچ سمجھ کر کریں گے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept