اہل وطن کوعید قربان کی خوشیاں مبارک

عیدالاضحیٰ جیسا مقدّس تہوار،جس کا مقصد صرف اورصرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہے وہ کہیں گم ہو گیا

ادارہ "کھوج نیوز کی جانب سے اہل وطن کوعید قربان کی خوشیاں مبارک ہوں، عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہم کو مقبوضہ کشمیر کے بھوکے پیاسے مسلمانوں کو بھی یاد کرنا چاھئیے کیونکہ وہ اپنے جائز حق کے لئے بوکھلاہٹ میں مبتلا بھارت سرکار سے لڑ رہے ہیں اور ساتھ ہی رب کریم سے دعا بھی ضروری ہے کہ نہتے کشمیری اپنے مقصد میں کامیاب ہوں لیکن المیہ یہ ہے کہ جس طرح ایک ہی گھر میں رہنے والے بہن بھائیوں کی سوچ، افکاراور خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے وطنِ عزیز میں بسنے والے لوگوں کے رویّے، خیالات، مزاج اور جذبات بھی ایک دوسرے سے یک سر جُدا ہیں۔

یعنی ایک وہ طبقہ ہے، جو مُلک کے حالات سے اس قدر نااُمید ہے کہ ہر لحظہ بس یہاں سے کُوچ کرنے کی سوچ میں گُم رہتا ہے، جو اپنی بے جا خواہشات کی تشفّی کے لیے تو بے دریغ خرچ کر سکتا ہے، مگر مُلک کے نام پر جیب سے ایک سکّہ بھی نہیں نکلتا، مغربی ممالک کی خوبیاں اور اپنے مُلک کی کوتا ہیاں توصاف نظر آتی ہیں، مگر یہ فراموش کر بیٹھا ہےکہ ان خرابیوں کا ذمّے دار اور کوئی نہیں،ہم خود ہیں۔

دوسرے طبقے میں وہ لوگ شامل ہیں، جن کی زندگی نمود و نمائش ہی کے گِرد گھومتی ہے، جن کی وجہ سےغربا یا مڈل کلاس فیملیز میں احساسِ کمتری پروان چڑھتا ہے۔کسی سیانے کا قول ہے کہ’’ اگر مُلک کا امیر طبقہ نمود نمائش بند کردے ، تو غریبوں کے کئی مسائل تو خود بخودحل ہو جائیں۔‘‘ واقعی اب تو وہ زمانہ آگیا ہے کہ عیدالاضحی جیسا مقدّس تہوار، جس کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہے، وہ بھی کُلی طور پر ’’کمرشلائزڈ‘‘ ہو چُکا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارے لیےاس سے زیادہ شرم ناک بات اورکیا ہوگی کہ ہمارے گھروں میں قربانی کے لاکھوں روپے مالیت کےجانوروں کو تو بادام، پستے کھلائے جاتے ہیں، مگر ملازموں کے آگےبچا کھچا کھانا رکھ دیا جاتا ہے۔ تیسرے طبقے میں اُن تعلیم یافتہ افراد کا ذکر ہے، جو نامساعد حالات کے با وجود مُلک کے مستقبل سے نا اُمید نہیں ، وہ امریکا ، برطانیہ میں بسنے کے نہیں ، وطنِ عزیز کو اُن کے مقابل کھڑا کرنے کے خواب سجائے محنت کر رہے ہیں۔اور یقین جانیے، اگر اس پاک سر زمین کا ہر باسی اسی جذبے سے لبریز ہوجائے، تو وہ دن دُور نہیں ،جب ہم بھی ایک ترقّی یافتہ قوم کہلائیں گے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept