جشن آزادی یوم آزادی میں تبدیل

پاکستان کا ہر بڑا، بچہ، بوڑھا اور خواتین سمیت ہر فراد اپنے ملک کی عزت اور اس کی سلامتی کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہانے کو تیار ہیں

تحریر: انیس اختر ٭٭٭٭٭
جشن آزادی یوم آزادی میں تبدیلی ہو گیا ہے، پاکستان کا ہر بڑا، بچہ، بوڑھا اور خواتین سمیت ہر فراد اپنے ملک کی عزت اور اس کی سلامتی کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہانے کو تیار ہیں۔
1930 میں علامہ محمد اقبال نے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے لئے الگ آزاد مملکت کا تصور پیش کیا جس کانام چوہدری رحمت علی نے ”پاکستان“ تجویز کیا تھا اور قائداعظم نے مسلمانان ہند کو ایک جھنڈے تلے جمع کرکے 14 اگست 1947 کو اس خواب کو حقیقت کا رنگ دیا۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب مسلم لیگ کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا اسکی صدارت جناب قائداعظم محمد علی جناح نے کی تھی اس جلسہ میں برصغیر کے لاکھوں مسلمان شریک ہوئے تھے۔یہ زمانہ مسلمانوں کے آزاد وطن کے حصول کے لئے جدوجہد کا تھا اس اجلاس میں محترم اے کے فضل الحق نے قرارداد لاہور پیش کی جس کی حمایت مولانا ظفرعلی خان آئی آئی چوہدری خلیق الزمان، عبداللہ بارون اور بیگم محمد علی جوہر نے کی تھی۔انگریز نے 1857 میں اپنی سازشوں کے زریعے برصغیر ہندوپاک پر قبضہ کرلیاتھا جس کے خلاف مسلم لیگ سینہ سپر ہوگئی اور تمام مسلمان الگ وطن کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے لگے اس مقصد کی خاطر لاہور میں 23 مارچ 1940 ء کو جلسہ ہوا جس میں قراردادِ پاکستان منظور کی گئی اس قرارداد کے خلاف ہندوستان کے تمام ہندوؤں نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ قائداعظم نے اپنے ساتھیوں سے مل کر حصول وطن کے لئے ملک گیر مہم چلائی اور فرمایا کہ مسلمان اپنے دین، فلسفہ حیات، اسلامی سماجی، اخلاقی اور مذہبی روایات کی بنیاد پر الگ قوم ہیں جن کا ہندو سے کسی صورت بھی تاریخی، سماجی معاشرتی اور مذہبی تعلق نہیں اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے جدا تشخص کی بناء پر الگ وطن چاہتے ہیں۔قائداعظم نے اس امر کی وضاحت کی کہ تحریک پاکستان کا مقصد محض دنیوی مفاد حاصل کرنا نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کو عملی صورت عطا کرنا ہے پاکستان کا منشا صرف آذادی اور خود مختاری ہی نہیں بلکہ اسلامی نظریہ حیات ہے اسلام صرف روحانی احکام، تعلیمات اور کتابوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہء حیات ہے جو مسلم معاشرہ کو مرتب کرتا ہے آپ نے مزید فرمایا ”مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کررہے ہیں کہ وہ اپنے ضابطہ حیات اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کرسکیں۔ قرارداد پاکستان کے بعد ہندوؤں نے کھلم کھلا پاکستان اور مسلمانوں کی مخالفت شروع کردی لیکن مسلم لیگ اور مسلمانوں کی اتحاد کی بدولت ہندوؤں کی ایک نہ چل سکی۔ سیاسی لحاظ سے اس قرارداد نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو الگ الگ راستے دیدئیے اور حصول منزل آسان ہوئی۔ جلسہ والی جگہ مینار پاکستان بنایا گیا ہے جو اس یادگار دن اور ہمارے آباو اجداد کی محنت لگن اور خلوص کی یاد دلاتا ہے یہ ہماری قربانیوں کا نشان ہے اس تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے جس میں سرفہرست جناب قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح جو کہ قائد کی دست راست تھیں۔ انہوں نے چند مسلم خواتین کے ہمراہ مسلمان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور پورے ہندوستان کا سفر کرکے مختلف مقامات پر اجلاس، جلسے اور جلوس کے ذریعے نظریہ پاکستان کو روشناس کرایا اور مسلم خواتین کو عملی طور سیاست میں دلچسپی لینے پر آمادہ کیا۔ سول نافرمانی کی تحریک میں مسلمان خواتین نے لاٹھی چارج اور قیدوبند کی تکلیفیں بھی برداشت کیں لیکن حصول آذادی کے مقصد سے پیچھے نہ ہٹیں اور 14 اگست 1947 کو مسلمان خواتین جلوس کی صورت میں قائداعظم کی رہائش گاہ پہنچیں اور انہیں آزاد اسلامی ریاست کے قیام پر مبارک باد دی۔ یوں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی ملک کی تعمیروترقی کے لئے اہم خدمات انجام دیں۔ یہ دن تجدید عہد کا بھی دن ہے کہ اب بطور مسلم قوم ہم سب کا مشترکہ فرض بھی ہے کہ اپنے ملک کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اسے ترقی یافتہ اقوامِ عالم میں ایک روشن استعارہ بنانے کے لئے خلوص نیت انسانی ہمدردی رکھتے ہوئے اسکی جڑوں کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں کوئی کمی نہ چھوڑیں ملک کی حفاظت اسکی بقا ء اور ملت کی پاسبانی کے لئے وحدت کی ضرورت ہے۔ ایک نظریہ پر عمل پیرا ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے اتحادو یگانگت مضبوط اور اٹل فیصلوں کی ضرورت ہے جو ملک و ملت کے مفاد میں ہوں تاکہ کوئی اغیار دشمن باطل قوت اس سرزمینِ پاک کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے اللہ تعالیٰ اس ملک اور اس میں بسنے والے مسلم و غیر مسلم تمام انسانوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین

 

 

 

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept