پی ٹی آئی کا منشور، حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا

پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں لکھا ہے کہ ”ہر آنے والی حکومت نے پولیس اصلاحات کو نظر انداز کیا ہے

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا انتخابی منشور حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا، پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں لکھا ہے کہ ”ہر آنے والی حکومت نے پولیس اصلاحات کو نظر انداز کیا ہے

یہ بات اب حکمران جماعت کیلئے مضحکہ خیز اور ہزیمت آمیز بات بن چکی ہے کیونکہ پارٹی پولیس میں اصلاحات لانے اور اسے سیاست سے پاک کرنے کے اپنے وعدے کو وفا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس کی سفاکیت کے بڑھتے واقعات اور محکمے کے سیاست کی دلدل میں مزید پھنس جانے کے دوران پی ٹی آئی کے منشور کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت وہ کچھ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے جس کے وہ اقتدار میں آنے سے قبل وعدے کرتی تھی۔ پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ ”ہم کے پی کے کامیاب پولیس اصلاحاتی ماڈل کی بنیاد پر پولیس کو سیاست سے پاک بنائیں گے۔ کے پی کے ماڈل کو قومی سطح پر اپنایا جائے گا۔ پاکستان میں پولیس کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں ہے، ان کی تربیت خراب ہے، ادارہ گہرائی تک سیاست زدہ ہے، اور کرپشن کی وجہ سے سخت بیمار ہے۔ پولیس میں اصلاحات کو پاکستان کی ہر حکومت نے نظرانداز کیا ہے اور اسے سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے۔“

پی ٹی آئی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پولیس میں اصلاحات کیلئے پارٹی ”کے پی پولیس ایکٹ 2017ء کے ماڈل کو تمام صوبوں تک پھیلائے گی اور پیشہ ورانہ آئی جیز تعینات کیے جائیں گے جو کے پی کی طرح دیگر صوبوں میں بھی پولیس کو سیاست سے پاک کریں گے۔ پولیس میں بھرتی کے نظام کو پیشہ ورانہ بنایا جائے گا اور ساتھ کیریئر مینجمنٹ اختیار کی جائے گی، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بھرتیوں، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا عمل سیاست سے پاک ہو۔ کے پی طرز پر پولیس کیلئے مخصوصی تربیتی ادارے قائم کیے جائیں گے۔ نئے پولیسنگ سسٹم پر سرمایہ کاری کی جائے گی اور کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی، اضلاع کو نگرانی کے جدید آلات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز مہیا کیے جائیں گے۔ پولیس تک عوام کی رسائی کو آسان اور سہل بنایا جائے گا اور اس مقصد کیلئے جدید اور نئی پولیسنگ ایپس، ایس ایم ایس سسٹم، آن لائن ایف آئی آر نظام اور کال سینٹرز متعارف کرائے جائیں گے۔ ہر سطح پر خواتین پولیس اسٹیشنز اور خواتین ڈیسکس قائم کی جائیں گی تاکہ خواتین کو با اختیار بنایا جا سکے۔

ہم کے پی کے ماڈل کو وسعت دیتے ہوئے تنازعات طے کرنے کے متبادل نظام کو بھی متعارف کرائیں گے جو تحصیل کی سطح پر کام کرے گا اور کے پی کی طرح ڈی آر سی ماڈل قومی سطح پر لایا جائے گا تاکہ چھوٹے جرائم کے حوالے سے تنازعات تحصیل کی سطح اور پولیس اسٹیشن کی سطح پر ہی طے کیے جا سکیں۔“ بدقسمتی سے پولیس اصلاحات کے حوالے سے ان وعدوں میں سے پی ٹی آئی نے وفاق یا صوبوں کی حد تک شاید ہی کسی پر عمل کیا ہو۔ پنجاب پولیس کی تحویل میں صلاح الدین کی ہلاکت اور بزرگ خاتون کے ساتھ پولیس والوں کی بدتمیزی کے حالیہ واقعات پولیس کے غیر انسانی سلوک اور سفاکیت کی وہ شرمناک مثالیں ہیں جنہیں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ پولیس میں اصلاحات لانے اور اسے سیاست سے پاک کرنے کی بیحد ضرورت ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے حکمران جماعت پی ٹی آئی نے وعدے کیے تھے کہ پولیس میں ا صلاحات لائی جائیں گی۔ پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی چند مہینوں کے دوران اور وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے بعد پنجاب حکومت نے سابق آئی جی پولیس کے پی ناصر درانی کی قیادت میں پولیس ریفارمز کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، چند ہفتوں میں ہی کمیشن اس وقت غیر فعال ہو گیا تھا جب ناصر درانی نے کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے استعفیٰ دیدیا کیونکہ اس وقت کے آئی جی پولیس پنجاب محمد طاہر کو قبل از مدت ہی ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ وزیراعظم نے ناصر درانی کو پرویز خٹک کی حکومت کے دوران ان کی غیر معمولی کارکردگی اور کے پی پولیس کو سیاست سے پاک بنانے پر کمیشن کے چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب کیا تھا۔ کئی مواقع پر وزیراعظم عمران خان کے پی میں ناصر درانی کی کارکردگی کا ذکر کرتے رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آ کر پنجاب پولیس کو سیاست سے پاک کیا جائے گا اور اسے جدید فورس بنائیں گے۔ تاہم، ناصر درانی کے جانے کے بعد سے یہ معاملہ توجہ کھو چکا ہے اور اسے داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept