سندھ حکومت کا تخت یا تختہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

ایک سال کے دوران وزراء کے بیانات سے یہ عیاں ہوا کہ سندھ میں دوبارہ سیاسی داؤ پیچ کھیلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں

سندھ حکومت کا تخت یا تختہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی‘ایک سال کے دوران مرکز کے کچھ وزراء کے بیانات سے یہ عیاں ہوا کہ سندھ میں دوبارہ سیاسی داؤ پیچ کھیلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

خبروں کے مطابق سندھ میں سندھ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے وہ سازگار حالات پیداہوچکے ہیں جس کی گزشتہ ایک سال میں پیش گوئیاں کی جارہی تھیں۔تبصروں اور تجزیوں کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی نیب کی جانب سے گرفتاری متوقع ہے اور اس کے بعد سیاسی منظر نامہ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو ختم بھی کیاجاسکتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ممکنات میں سے ہے تو سندھ کی سیاسی شطرنج میں کون سے مہرے اپنی جگہ بدلیں گے اور کیا ان ہاؤس تبدیلی کی حکمت عملی کامیاب ہوسکے گی؟

اس تمام صورتحال کو سمجھنے کیلئے موجودہ سندھ اسمبلی کی پارٹی پوزیشن کو جاننا ضروری ہے۔سندھ اسمبلی میں اس وقت حکومتی جماعت پیپلزپارٹی 168میں سے 99نشستوں کیساتھ سرفہرست ہے۔اس کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف 30اراکین صوبائی اسمبلی کیساتھ دوسرے،متحدہ قومی موومنٹ 21 نشستوں کیساتھ تیسرے جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 14ایم پی ایز کیساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ تحریک لبیک پاکستان تین اور ایم ایم اے کا ایک ایم پی اے بھی اسمبلی میں موجودہ ہے۔پیپلزپارٹی کی 99نشستیں نکال دی جائیں تو باقی 69نشستیں رہ جاتی ہیں اور اگر انہیں اپوزیشن اتحاد بھی سمجھ لیاجائے تو کم از کم 16ایم پی ایز کو پارٹی سے ہٹ کر اپوزیشن کے نامزد وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینا پڑے گا۔ اگر وزیر اعلیٰ سندھ کو گھر بھیجاجائے تو پیپلزپارٹی کو اپنے کم از کم 16ایم پی ایز کی ناراضی ختم کرناہوگی۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept