طاہر القادری کی ”سیاسی“ کنارہ کشی، اصل کہانی منظر عام پر

2018ء کے الیکشن کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر طاہر القادری کو صدر بنانے کا وعدہ کیا تھا

طاہر القادری کی سیاست سے کنارہ کشی کی اصل کہانی منظر عام پر آ گئی، کھوج نیوز ذرائع کے مطابق 2018ء کے الیکشن کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر طاہر القادری کو صدر بنانے کا وعدہ کیا تھا جسے بعد ازاں وہ اپنی مجبوریوں کی بناء پر پورا نہیں کر پائے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے دھرنے میں جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری ثابت قدم رہے تھے اس کا کم از کم تقاضا یہ تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے تجربے، علم اور فلسفے سے فائدہ اٹھایا جاتا مگر افسوس کہ اس قوم کی قسمت میں یاوری نہیں لکھی تھی وگرنہ آج عمران خان کی حکومت نہ معاشی جھمیلوں میں گرفتار ہوتی اور نہ اس کو گورننس کا مسئلہ درپیش ہوتا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری معاشی مسائل کے حل پر کئی کتب کے مصنف ہیں، وہ چٹکی بجانے سے بھی کم عرصے میں ان گمبھیر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں اور جہاں تک گورننس کا تعلق ہے تو اس کا بہترین ماڈل تو وہ بنا کر دکھا چکے ہیں، جس طرح دنیا میں منہاج القرآن کا نیٹ ورک ہے اگر اسی کی نقل میں گورننس ماڈل بن جائے تو پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept