سعودی، ایران کشیدگی، پاکستان کی مشکلات میں اضافہ

کسی ملک کیساتھ جنگ نہیں چاہتے، اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کیلئے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے: ایران

سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہاہے۔

انٹرنیشنل میڈیاکے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ کسی ملک کیساتھ جنگ نہیں چاہتے، اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کیلئے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن ہمارے اوپر کسی نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش تو اس کے بہت خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یا امریکا کی طرف سے ہم پر مسلط کی جنگ کھلی جنگ تصور کریں گے۔ میں ایک انتہائی سنجیدہ بیان دے رہا ہوں ہم جنگ کے حق میں نہیں، ہم کسی عسکری تنازع میں الجھنا نہیں چاہتے مگر ہم اپنے علاقے کا دفاع کرنے کیلئے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے۔ جواد ظریف کی طرف سے یہ بات مائیک پومپیو کے بیان کے بعد سامنے ا?ئی ہے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی تنصیبات پر حملہ ایک جنگی اقدام تھا اور ایران کے اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں اور یہ امریکہ سعودی عرب کی خام تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے۔

دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بی ٹیم کے افراد دھوکے کے ذریعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خود ساختہ لیبل لگا کر اقوام متحدہ وفود کو ویزہ دینے کی ذمہ داری سے کترا رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے نیلسن منڈیلا کو نوبل انعام ملنے کے باوجود اگلے 15 سال تک دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں رکھا۔ ٹویٹر پر جواد ظریف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو چھوٹے سے یمن میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept