وزیراعظم ہاؤس اور نیب آمنے سامنے

نیب میں انکوائری چلنے کے باوجود ایل این جی ٹرمینل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہوسکے

وزیراعظم ہاؤس اور نیب آمنے سامنے آگئے، قومی احتساب بیورو (نیب) وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن گئی، رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایل این جی ٹرمینل کمپنیوں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا جس کے مطابق وزارت خزانہ اور پیٹرولیم نے ایل این جی ٹرمینل کمپنیوں کو زائد منافع کی بات کرنی تھی تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے کیونکہ ایک ایل این جی ٹرمینل کمپنی کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے۔

نیب انکوائری کے دوران مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ کابینہ ارکان نے ایل این جی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے دوبارہ کھولنے کی تجویز دی لیکن وزیر قانون فروغ نسیم نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے ری اوپن ہونے سے نئے سرمایہ کار انوسٹمنٹ سے ہچکچائیں گے۔ دوسری جانب وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ 18 اکتوبر 2018 کو کابینہ نے وزارت پیٹرولیم کو ترکی کے ساتھ معدنی ذخائر کے شعبے میں تعاون کی یادداشت پر دستخط کرنے کی اجازت دی تھی تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ترکی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept