حکومت کے رویہ سے مایوس اہم چینی منصوبہ بند ہونیکا انکشاف

او جی ڈی سی ایل کے ترجمان احمد حیات لک نے چائنیز پلانٹ بند ہونے کی تصدیق کر دی ہے

حکومت کے رویہ سے مایوس ہو کر چین نے پاکستان میں اہم منصوبہ این اے پی ایس ایچ پی اے گیس پروسیسنگ اینڈ ایل پی جی ریکوری پلانٹ بند کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق او جی ڈی سی ایل کے ترجمان احمد حیات لک نے پلانٹ بند ہونے کی تصدیق کر دی ہے اور کہا کہ کنٹریکٹر نے غیرقانونی طورپر ڈسٹری بیوشن کنٹرول سسٹم کے ہیر پھیر کے ذریعہ پاس ورڈز تبدیل کئے اور سوفٹ ویئر میں رد و بدل کیا۔ جس سے 375 میٹرک ٹن ایل پی جی یومیہ کی فراہمی رک گئی۔ او جی ڈی سی ایل کو فروری 2018ء سے ایل پی جی، کنڈنسیٹ، پروسیسڈ گیس اور این جی ایل ایچ بی پی کو پی اے سی کے اجراء اور آزمائش کے بغیر حاصل ہو رہی تھی جو کنٹریکٹ کی خلاف ورزی تھی۔

ایچ بی پی، او جی ڈی سی ایل سے 10 کروڑ ڈالرز کی ادائیگی اور پرفارمنس ٹیسٹ اور پی اے سی کے لئے 31 اکتوبر 2019ء تک کی توسیع چاہتی ہے۔ او جی ڈی سی ایل کا موقف ہے کہ چینی کنٹریکٹر پلانٹ کا آپریشن بند نہیں کر سکتا۔ جس میں 148 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے چینی کنٹریکٹر کو 80 فیصد ادائیگی کر دی ہے اور باقی 20 فیصد کی ادائیگی پرفارمنس ٹیسٹ پر ہوگی۔ ترجمان نے تنازع پر مزیدکچھ کہنے سے معذرت کی اور کہا انہیں یہ باتیں عام کرنے کا اختیار نہیں ہے، او جی ڈی سی ایل اور چینی کمپنی کے درمیان تنازع اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ غیرملکی سرمایہ کاری کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

ملک میں مقامی کاروبار کیلئے بھی ماحول کو سازگار بنانے کے کوشاں ہیں۔ لیکن تیل کی تلاش اور پیداوار غیرملکی کمپنیوں سے ناروا سلوک اختیار کیا گیا ہے۔ جس کا اندازہ او جی ڈی سی ایل اور چینی کمپنی کے درمیان محاذ آرائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ 30 ستمبر 2019ء کے بعد سے پلانٹ سے آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ جہاں سے ایل پی جی پیداوار 300 میٹرک ٹن یومیہ تھی۔ او جی ڈی سی ایل نے بحران حل کرنے کے لئے کوئی معقول اقدام کے بجائے بی ایچ پی کو آپریشنز فوری شروع کرنے کے لئے کہا ورنہ پلانٹ کی بندش پر 15 لاکھ ڈالرز جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔انتظامیہ نے پلانٹ بحال نہ ہونے کی صورت میں چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی۔ تاہم او جی ڈی سی ایل نے اس کی تردید کی۔ ترجمان کے مطابق متعلقہ کمیٹی نے چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept