حساس علاقہ میں باپ بیٹا کا قتل، پولیس کے لئے سر درد بن گیا

پی ایچ ڈی ڈاکٹر فصیح عثمانی اور ان کے 22 سالہ بیٹے کامران عثمانی کی لاشیں صبح ان کے گھر کے بیڈ روم سے ملیں

کلفٹن کے حساس سکیورٹی علاقے میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور جواں سال بیٹے کا قتل مقامی پولیس کے لئے سردرد بن گیا ہے، ان دونوں کو گھر میں قتل کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ کلفٹن میں سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس علاقے بلاک 4 میں باپ بیٹے کے دوہرے قتل کی واردات بدھ کی صبح ساڑھے 6 بجے سے 8 بجے کے درمیان ہوئی۔ پولیس کے مطابق 65 سالہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر فصیح عثمانی اور ان کے 22 سالہ بیٹے کامران عثمانی کی لاشیں صبح ان کے گھر کے بیڈ روم سے ملیں، واردات کے وقت دونوں باپ بیٹا سوئے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق فصیح عثمانی کی اہلیہ مسز آسیہ نے بیان دیا ہے کہ وہ صبح ساڑھے 6 بجے معمول کے مطابق گھر سے واک کرنے کے لیے چلی گئیں، شوہر اور بیٹا سو رہے تھے، واپس آنے کیلئے گھر کی اطلاعی گھنٹی بجا کر انہیں نیند سے جگانا نہ پڑے اس لئے وہ واپس آنے کیلئے گھر کا پچھلا چھوٹا دروازہ کھلا چھوڑ گئیں، واک بعد خاتون گھر واپس پہنچیں تو قیامت کا منظر تھا، شریک حیات اور ان کے لخت جگر کی لاشیں بیڈروم میں خون میں لت پت پڑی تھیں۔

ایس ایچ او کلفٹن پیر شبیر کے مطابق نقد رقم، لیپ ٹاپس، موبائل فونز، زیورات اور دیگر بھاری قیمتی اشیاء گھر میں جوں کا توں موجود ہے اور ملزمان نے بظاہر کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔پولیس کے مطابق واردات کس تیزدھار آلے سے ہوئی یہ بھی معلوم نہیں کیونکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان آلہ قتل بھی ساتھ لے گئے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن طارق دھاریجو نے بتایا کہ گھر میں کوئی چوکیدار اور سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں، واردات میں کوئی گھر کا بھیدی ملوث لگتا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتول فصیح عثمانی کراچی کے کئی میڈیکل کالجز میں تدریس کا کام کرتے رہے، ایک سال قبل ہی ان کے بڑے بیٹا کا انتقال ہوا ہے جب کہ ان کے ساتھ قتل کیا گیا بیٹا کامران امریکہ میں مقیم ہے جو دو ماہ قبل والدین سے ملنے کیلئے کراچی آیا تھا، مقتول کی دو بیٹیاں ہیں جن میں ایک کینڈا جبکہ دوسری امریکہ میں مقیم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ خاندان کراچی سے امریکہ منتقل ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept