بی آر ٹی منصوبہ پر انوکھا فیصلہ، بسوں کی جگہ سائیکلوں نے لے لی

بی آر ٹی کے لیے 360 سائیکلیں چین سے پشاور منگوائی گئی ہیں، یہ سائیکلیں ’زو‘ نام سے متعارف کی گئی ہیں

بی آر ٹی منصوبہ پر انوکھا فیصلہ، بسوں کی جگہ سائیکلوں نے لے لی‘ پشاور میں ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے لیے بسیں چلنے کا آغاز تو نہ ہوسکا لیکن چین سے سائیکلیں منگوالی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کے لیے 360 سائیکلیں چین سے پشاور منگوائی گئی ہیں، یہ سائیکلیں ’زو‘ نام سے متعارف کی گئی ہیں جس کے معنی پشتو زبان میں ’چلو‘ کے ہیں۔ ان سائیکلوں کو بی آر ٹی پر سفر کرنے والے مسافر استعمال کرسکیں گے جس کا کرایہ بھی بہت کم ہوگا۔ اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو افسر فیاض خان نے بتایا کہ زو سائیکل اسمارٹ کارڈ یا موبائل ایپ کی مدد سے حاصل کی جاسکیں گی جو پائیدار اور معیاری ثابت ہوں گی، اس کے علاوہ ان سائیکلوں کی حفاظت کے لیے اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے جائیں گے۔

ٹرانزٹ ترجمان نعمان منظور نے بتایا کہ زو سائیکلوں کو منگوانے کا مقصد ہے کہ جب مسافر اے سی اور وائی فائے والی بس سے اترے تو اپنی حتمی منزل تک صحت مند طریقے سے پہنچے۔ ان کاکہنا تھا کہ ان سائیکلوں کے ٹائرز میں ہوا نہیں ہے کیونکہ یہ خاص سولڈ ربڑ ٹائرز ہیں جس کے تحت یہ زیادہ وزن برداشت کرسکتے ہیں، ساتھ ہی یہ پنکچر بھی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ٹائر پانی میں خراب ہوں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ زو سائیکل میں چین نہیں ہے جس کی وجہ سے کپڑے پھسنے کا خدشہ بھی نہیں ہوگا اس کے علاوہ اسے مرد حضرات اور خواتین دونوں استعمال کرسکتے ہیں۔ زو سائیکلوں کی مدد سے ملازمت پیشہ خواتین ہوں یا طالبات سب ہی مستفید ہوسکیں گے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept