کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

WebDesk 1 WebDesk 1 , جولائی 29, 2018

(راشد سعید سے) محکمہ تحفظ ماحول پنجاب میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف، محکمہ کو سابق افسران نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا، کرپشن منظر عام پر آنے پر سابق ڈی جی جاوید اقبال ، ڈائریکٹر لیبارٹری توقیر قریشی، ڈپٹی ڈائریکٹر وسیم احسن چیمہ اور ڈائریکٹر ای آئی اے محمد طاہر کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے انکوائری شروع کر دی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سنٹرل لیبارٹری کے نام پر 2ہزار ملین کی رقم منگوا کر مختلف سکیموں کی مد میں خرچ کر ڈالے گئے پھر ان افسران نے اس پراجیکٹ کے لیے 740 ملین کی رقم مزید منگوا کر خرچ کر ڈالی، 2007ءسے 2016ءتک کوئی ترقیاتی کام نہ ہوا صرف رقم ہڑپ کی جاتی رہی ۔ مجموعی طور پر 10 کے قریب افسران ایسے تھے جن کے خلاف اینٹی کرپشن پنجاب نے تحقیقات شروع کی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ ماحول میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خورد برد کرنے کے لیے افسران نے سنٹرل لیبارٹری کے نام پر 2 ہزار ملین کا غبن کیا 2007ءسے لیکر 2016ءتک مختلف لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن کی مختلف سکیمز اور جائیکا سے 1260 ملین لیبارٹری میں خرچ کیے گئے اور پھر حکومت پنجاب سے اسی سنٹرل لیبارٹی کے نام پر 740 ملین روپے لیے گئے مختلف ایکوپمنٹ خرید ے گئے لیکن خریدے گئے ایکوپمنٹ لیبارٹری میں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اتنی خطیر رقم ملنے کے باوجود لیباٹری فنگشنل ہوئی۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ محکمہ تحفظ ماحو ل پنجاب کے پاس مختلف اضلاع میں 8 لیباٹریاں لاہور ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، شیخوپوہ ملتان اور رحیم یار خان میں ہیں ان لیبارٹروں میں 8 ڈی ڈی لیب، 16 ریسرچ آفیسر، 21 اسسٹنٹ ریسرچ اور دیگر سٹاف موجود ہیں لیکن ان کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے اور اس نئی سکیم میں مارکیٹ ریٹ پر نئے افسر 3 لاکھ 50 ہزار ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کیے گئے لیکن پرانے سٹاف سے کوئی کام نہیں لیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ توقیر شاہ نامی شخص لیبارٹری انسٹرومنٹ کمپنیوں کا اہلکار ہے یہ مختلف فیکٹروں کو ڈرا دھمکا کر ان سے انسٹرومنٹ خریدنے کےلئے غیر قانونی طور پر سرکاری حیثیت کا استعمال کر رہا ہے چند عرصہ قبل اس نے پیپسی فیکٹری کو ایک مخصوص کمپنی کا ایئر پوانٹر لگانے کا ناجائز حکم جاری کیا تو کمپنی نے مجبوراً ٹربیونل (PET) میں کیس کر دیا یہی حکم پرائیویٹ ماحولیاتی لیبارٹریز کے لیے ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ سابق ڈی جی ای پی اے جاوید اقبال کی ملی بھگت سے ای پی اے کی لیباٹریز کو بند کیا گیا اور بھاری کمیشن کے لیے تمام ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریز سے کرانے کے لیے ریفر کیا جاتا ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے اور تمام افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.