سعد رفیق کی گرفتاری کا فیصلہ

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق کی گرفتاری کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔۔

سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ روز گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت سے 15 روز کے لیے حفاظتی ضمانت کی استدعا کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سعد رفیق کی درخواست پر سماعت کی۔

خواجہ سعد رفیق کے وکیل کامران مرتضیٰ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب کی طرف سے کال اپ نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ہم نے 15 دن کی حفاظتی ضمانت کیلئے استدعا کی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ یہاں سے 45 منٹ کی دوری پر ہے، حفاظتی ضمانت کے لیے وہاں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟

اس پر سعد رفیق کے وکیل نے مو¿قف اپنایا کہ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں، وہاں گئے تو گرفتار کرلیں گے۔

عدالت نے خواجہ سعد رفیق کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جوکہ تھوڑی دیر بعد سناتے ہوئے سعد رفیق کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ فورم لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

سابق وزیر اور (ن) لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق فیصلہ آنے سے قبل ہی عدالت سے چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد لیگی رہنما نے حفاظتی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ نیب خواجہ سعد رفیق کے خلاف پیراگون ہاو¿سنگ سوسائٹی سے متعلق تحقیقات کررہا ہے، انہیں اس حوالے سے کئی بار طلب کرکے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔