ٹرمپ ، عمران خان ملاقات کیسے طے ہوئی ، اہم انکشافات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات پر کیسے راضی ہوئے تفصیلات سامنے آ گئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کو ان کی فوجی قیادت نے آگاہ کیا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام اور فوجوں کی واپسی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں جس پر انہوں نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی خارجہ پالیسی پر بڑی تبدیلی لیتے ہوئے پاکستان کی طرف تعاون کے لیے ہاتھ بڑھا دیا ۔ 

واضح ہو کہ چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے کے لیے خط لکھا تھا جس میں انہوں نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے تعاون بھی طلب کیا تھا اور ٹرمپ نے اپنے خط میں افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لیے بھی پاکستان سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ 

واضح ہو کہ طالبان کے ساتھ قطر میں امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں اس سلسلے میں قطر میں طالبان کا دفتر فعال کیا جا چکا ہے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے خط سے پہلے عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ اب پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا۔ جس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تعاون کا خط پاکستان کو موصول ہوا تھا۔ 

امریکی صدر ٹرمپ نے پاک بھارت تعلقات کے حوالہ سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی جیسے وزیراعظم عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی قرار دیا جا رہاہے۔