’یہ کس قسم کا مذاق ہے‘۔۔۔ وزیر خزانہ غصے میں

 رواں برس کپاس کی پیداوار میں 24 فیصد کمی کے باعث وزیر خزانہ اسد عمر نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کونسل (ای سی سی) کے سامنے ادھورے منصوبے پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کپاس کی ڈیوٹی فری درآمد اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا معاملہ دوبارہ متعلقہ وزارتوں کو واپس بھیج دیا۔

 اقتصادی رابطہ کونسل کا اجلاس صرف ایک معاملے پر مشتمل ایجنڈے، ٹیکس اور کپاس کی ڈیوٹی فری درآمد پر غور کے لیے منعقد ہوا۔اجلاس میں حبکو کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی بحالی پر پریزینٹیشن پیش کی گئی جو اجلاس کی سربراہی کرنے والے وزیر خزانہ اسد عمر کو مطمئن نہ کرسکی۔

اجلاس میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ جب پریزینٹیشن دینے والے بیوروکریٹس اس ضمن میں پوچھے جانے والے سوالات کا جواب نہ دے سکے تو وزیر خزانہ اس موقع پر برہم نظر آئے۔ذرائع کے مطابق پریزینٹیشن دینے والوں کو ڈیوٹی فری کپاس کی برآمد کے پاکستانی معیشت پر مرتب ہونے والے فوائد اور اس سے حاصل ہونے والی ہونے والے آمدنی کے نقصان کی الگ الگ وضاحت کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

تاہم ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بیروکریٹس اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر وزیر خزانہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کس قسم کا مذاق ہے، ایک ایجنڈا ہونے کے باوجود آپ لوگ اجلاس میں تیاری کرکے شریک نہیں ہوئے‘۔

بعدازاں اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے تجارت اور آمدن کے اعدادوشمار کی تفصیلات طلب کی ہیں جسے تجویز کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا‘۔