چیف جسٹس کا مقامی چینلزپربھارتی مواد دکھانے سے انکار

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم ٹیلی ویژن چینلز کو بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے یہ ہماری تہذیب کو خراب کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی ٹی وی چینلز پر غیرملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

دوران سماعت پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر غیر ملکی مواد دکھانے پر پابندی لگائی گئی لیکن ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔ پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ نے بتایا کہ فلمیزیا چینل 65 فیصد اور بعض اوقات 80 فیصد غیر ملکی مواد دکھاتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس پر عدالتی معاون ظفر کلانوری نے بتایا کہ فلمیزیا نیوز چینل نہیں تفریحی چینل ہے اور یہ کوئی پروپگینڈا نہیں کرتا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری تہذیب کو تو خراب کررہا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وکیل فیصل صدیقی نہیں آئے، ان کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتے، جس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔