گرینڈ حیات ٹاور کی لیز منسوخی کیخلاف اپیل منظور

وفاقی دارالحکومت میں گرینڈ حیات ٹاور کی لیز منسوخی کیخلاف اپیل منظور ‘ سپریم کورٹ نے مالک بی این پی گروپ کو 17.5 ارب کی رقم ادا کرنیکا حکم دیدیا۔ 

ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ میں گرینڈ حیات ٹاور سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران وکیل سی ڈی اے نے موقف اختیار کیا کہ گرینڈ حیات ٹاور مارگلہ نیشنل پارک میں آتا ہے اور اس کی لیز غیر قانونی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر تو سرینا ہوٹل، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ بھی اسی علاقے میں آتے ہیں، لیز غیر قانونی ہے تو کیا دونوں ٹاورز گرا دیں، سی ڈی اے کو لیز سے 15 ارب روپے زیادہ دلا رہے ہیں، آدھا اسلام آباد سی ڈی اے نے غلط بنایا ہوا ہے، ہر زون میں سی ڈی اے کی غلطیاں نکلتی ہیں، بنی گالا میں سی ڈی اے نے کیا کیا، سی ڈی اے کی یہ کارکردگی ہے، 1960 سے آج تک سی ڈی اے نے اپنی ریگولیشنز نہیں بنائیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹاور گرانے ہیں تو لوگوں کو معاوضہ ادا کریں۔ وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ گرینڈ حیات کا معاہدہ بدعنوانی سے ہوا ہے اور خود سی ڈی اے کے ذمہ داروں نے گرینڈ حیات میں فراڈ کیا، عدالت کسی فیصلہ سے قبل کابینہ کے فیصلہ کا انتظار کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنی کسی دستاویزات میں بدعنوانی کا موقف نہیں اپنایا، طاقتور شخص کے کہنے پر سی ڈی اے نے تھرڈ پارٹی کے حقوق کو خطرے میں ڈالا ہے۔

سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات کے مالک بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور گرینڈ حیات ہوٹل کو کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے گرینڈ حیات ہوٹل کو مزید 17.5 ارب روپے 8 سال میں ادا کرنے کاحکم دے دیا۔