برسات کی آمداور سیلاب کے خطرات

مظفرآباد کے قریب وادی نیلم میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی،سیلابی ریلے میں بہہ کر 24 افرا دجاں بحق ہوگئے

مون سون کا آغاز شدید ترین بارشوں سے ہوچکا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے رواں مون سون میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے،آندھی اور بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا، کرنٹ لگنے سے کئی افراد ہلا ک ہوگئے۔ملک کے بیشتر علاقے زیر آب آنے کے بعد نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے۔ ملک کے بیشتر مقامات پر ہونے والی بارشوں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے کے باعث مختلف دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہورہی ہے اور بیٹ کے علاقے زیر آب آچکے ہیں۔ مظفرآباد کے قریب وادی نیلم میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی،سیلابی ریلے میں بہہ کر 24 افرا دجاں بحق ہوگئے ہیں متعدد افراد کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔ جبکہ محکمہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور آنے والے دنوں میں مزید طوفانی بارشوں سے اس سال سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

طوفانی بارشوں اور قدرتی آفات سے بچاؤ تو دور جدیدکی ترقی یافتہ دنیا میں بھی ممکن نہیں، چین اور بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک طوفانی بارشوں اور سیلاب کی زد میں آجاتے ہیں اور وہاں بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ بہتر منصوبہ بندی، احساس ذمہ داری اور بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کو از حد کم کیا جاسکتا ہے۔موجودہ دور کے بہت سے ممالک میں بہتر نظم و نسق، مستحکم بنیادی ڈھانچے، انسانی زندگی کے تحفظ کی خاطر کئے جانے والے اعلیٰ پیمانے کے انتظامات کی بدولت بارشوں، سیلاب اور طوفانی برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات پر فی الفور قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ناگہانی آفات کے موقع پر عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جاتا۔ جبکہ مملکت خداداد پاکستان میں حالات اس کے برعکس ہیں یہاں سنگیں مسائل پر کمیٹیاں بنتے بنتے اور ان پر کام شروع ہوتے اتنا عرصہ لگتا ہے کہ پانی سر سے گزر جاتا ہے۔پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لاپرواہی کے نتائج گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔ جبکہ اگر پاک فوج، رفاہی اداروں اور علاقائی رضا کاروں کی طرح حکومتی ادارے اور متعلقہ حکام بھی عوام کے تحفظ کی خاطر مکمل سنجیدگی، دلچسپی،خلوص اور احساس زمہ داری سے کام لیں تو یقینا ممکنہ سیلاب کے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تغیر، اور خطے کی آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث ماہرین کے مطابق بارشوں کی شدت میں اضافہ اور سیلاب کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ اور اب ایک مرتبہ پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں اور بڑے پیمانے پر سیلاب کے خطرات کو محسوس کیا جا رہا ہے،مزید یہ کہ بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑے جانے پر سیلاب کا خطرہ مزیدبڑھ سکتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچاؤ کے لیے حکومت نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے؟۔ 2009 ء کے سنگین سیلاب کے بعد ملک بھر کے ذرائع ابلاغ اور قومی حلقوں نے نئے، اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا تھالیکن اس وقت کی حکومت نے اس انتہائی سنجیدہ معاملے کوسیاسی مفادات کی بناہ پر نظر انداز کردیا۔ نئے ڈیموں کی تعمیر ہماری معیشت و زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہے، کیونکہ پانی کے محفوظ ذخائر کی بدولت ہم نہ صرف زر عی خود کفالت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دو لاکھ میگاواٹ یومیہ مقدار تک کی بجلی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ فرائض شناسی، زمہ داری کا احساس اور عوام کے ساتھ حقیقی وابستگی ہو تو کم وسائل کے باوجود عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو لازمی طور پر اپنی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے، ملک کو بحرانوں سے نجات اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر حفاظتی اقدامات مکمل کرنا چاہیے، یہ نہ ہو کہ حکمران محض کمیٹیاں بناتے رہیں اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے۔ غربت و مہنگائی کے ستائے عوام پاکستان مزید کسی نئے بحران کو جھیلنے کی سکت نہیں رکھتے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept