چیف سیلکٹرانضمام الحق کی کرسی ہلنےلگی

چیف سلیکٹر انضمام الحق کی کرسی ہلنے لگی لہٰذا ورلڈکپ میں ٹیم کے نتائج توقعات کے مطابق نہ رہے تو معاہدے میں توسیع نہیں ہو گی۔

انضمام الحق کو2016میں قومی کرکٹ چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا تھا، ان کے دور میں ٹیم کے نتائج ملے جلے رہے، البتہ چیمپئنز ٹرافی کا فاتح دستہ انھوں نے ہی منتخب کیا تھا، ورلڈکپ کیلیے اسکواڈ کا اعلان18اپریل کو ہونا ہے، اس کے بعد اگلی سیریز تک انضمام کا پی سی بی سے معاہدہ ختم ہو جائے گا،اگر میگا ایونٹ میں نتائج توقعات کے مطابق نہ رہے تو انضمام کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں ہو گی۔

ذرائع نے بتایا کہ بورڈ حکام چیف سلیکٹر کے کام سے مطمئن نہیں ہیں،ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے اقربا پروری سمیت کئی باصلاحیت کرکٹرز کو نظرانداز کرنے کے الزامات لگتے رہتے ہیں،آسٹریلیا سے یو اے ای میں ون ڈے سیریز کیلیے کپتان سرفراز احمد سمیت کئی سینئرز کو آرام کرانے اور پھر 0-5 سے شکست پر بھی وہ میڈیا کی تنقید کا نشانہ بنے، سلیکشن معاملات میں انضمام کپتان سرفراز احمد کو بھی اکثر نظرانداز کرتے رہے ہیں۔

ایم ڈی وسیم خان ڈھکے چھپے الفاظ میں واضح کر چکے کہ سلیکشن کمیٹی کے کنٹریکٹ میں توسیع کا انحصار ورلڈکپ میں ٹیم کی پرفارمنس پر ہے،انضمام بورڈ سے ہر ماہ 12 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ وصول کرتے ہیں،کمیٹی میں توصیف احمد، وسیم حیدر اور وجاہت اللہ واسطی بھی شامل مگر تینوں کا کام ربڑ اسٹیمپ کا ہوتا ہے اور وہ اپنے چیف کے سامنے زبان نہیں کھولتے، اکثر غیرملکی ٹورز میں بھی انضمام خود ہی چلے جاتے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی کی ایک اعلیٰ شخصیت معین خان کو کوئی بڑی ذمہ داری دلانا چاہتی ہے، مستقبل میں ان کی خدمات حاصل کرنے کا امکان روشن ہے، وہ اس سے قبل کوچ،منیجر اور چیف سلیکٹر کے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

دوسری جانب مکی آرتھر کا معاہدہ بھی میگا ایونٹ تک کا ہے،ان کے مستقبل کا دارومداربھی ٹیم کے نتائج پر ہوگا۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کچھ عرصے قبل واضح کر چکے کہ ورلڈکپ کے بعد کوچز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم 5 سے19 مئی تک انگلینڈ کیخلاف سیریز میں حصہ لے گی، اس کے بعد 30 تاریخ کومیگا ایونٹ شروع ہونا ہے، کھلاڑی ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کر رہے ہیں، اگلے ہفتے ان کے فٹنس ٹیسٹ لیے جائیں گے، اسکواڈ کی انگلینڈ روانگی 23 اپریل کو طے ہے۔