احسانی مانی اپنے اختیارات منتقل کرنے پر مشکلات کا شکار

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو اپنے اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو منتقل کرنے پر مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بورڈ آف گورنرز کے رکن اسد علی خان کی سربراہی میں ایک ٹاسک ٹیم تشکیل دی ہے جو پی سی بی کے آئین میں نئی اصلاحات لانے کے لئے کام کررہی ہے۔ آئین میں ترمیم کے بعد ایم ڈی کا عہدہ ختم کرکے پی سی بی میں پہلی بار چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ متعارف کرایا جائے گا تاہم فوری طور احسان مانی نے ایک سرکیولر قرار داد کے ذریعے اپنے اختیارات وسیم خان کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ بورڈ آف گورنرز کے کچھ اراکین نے سرکیولر قرار پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور بورڈ سے کچھ سوالات پوچھے اور کچھ نے تجاویز دیں، اس لیے کوئٹہ کے اجلاس میں پی سی بی نظر ثانی شدہ مسودہ منظوری کے لئے پیش کرے گا۔

چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کو بھی کچھ اختیارات دیئے جارہے ہیں، ایم ڈی کو جو اختیارات دینے کی تجویز ہے اس میں سب سے بڑا اختیار پاکستانی ٹیم کی منظوری ہوگی جب کہ پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ کی تقرری بھی ایم ڈی کرسکے گا۔پی سی بی کے آئین کی شق 13 کے مطابق بورڈ آف گورنرز سپریم ادارہ ہے تاہم بورڈ آف گورنرز روز مرہ کے کاموں کے لئے اختیارات ایم ڈی کو دے سکتا ہے جب کہ  ماضی میں اس کی مثال موجود ہے۔

2014 میں بورڈ آف گورنرز اختیارات، ایگزیکٹیو کمیٹی کو سونپ چکا ہے جس کے تحت نجم سیٹھی کو چیئرمین کے اختیارات منتقل ہوگئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان مانی نے بورڈ آف گورنرز کو خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے بورڈ آف گورنرز سے درخواست کی ہے آئین کی شق 13کے تحت میں اپنے اختیارات ایم ڈی کو دینا چاہتا ہوں، اسی دوران بورڈ کے آئین میں ریویو کے لئے کمیٹی اپنا کام کررہی ہے۔ احسان مانی نے چیئرمین بننے کے بعد اپنا نائب برطانوی نژاد وسیم خان کو مقرر کیا ہے، قابل اعتماد ایم ڈی کو وہ اپنے بہت سارے اختیارات دے کر خود پورے عمل کا جائزہ لیں گے۔

پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے بارے میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ یہ ربڑ اسٹمپ کا کردار ادا کرتا ہے لیکن اختیارات کے معاملے پرسرکیولر قرارکی منظوری نہ دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسد علی خان، چیئرمین واپڈا لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین، سوئی گیس کے لیفٹینٹ جنرل(ر) جاوید ضیاء اور دیگر اراکین آئینی مسودے کی منظوری دینے سے قبل اپنے تحفظات کو دور کرنا چاہتے ہیں۔پی سی بی میں چیئرمین کی پوسٹ اعزازی ہے جب کہ ایم ڈی اور چیف آپریٹنگ آفسیر تنخواہ دار ملازم ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں چیئرمین احسان مانی اپنے اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کے سپرد کرنے کے لئے اپنا موقف پیش کریں گے۔ بورڈ آف گورنرز کی جانب سے سرکیولر قرار پر تحفظات کے بعد اجلاس میں منظوری کے لئے چیئرمین کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کرکٹ کے معامالات میں ایم ڈی کے پاس فیصلہ سازی کا براہ راست اختیار آجائے گا، بی او جی سب سے بااختیار پالیسی ساز ادارہ ہے لیکن وہ روز مرہ کے اختیارات کسی کو بھی دے سکتا ہے۔ احسان مانی کے بہت سارے اختیارات ایم ڈی اور چیف آپریٹنگ آفسیر کے پاس آجائیں گے، اگر ایم ڈی کو اختیارات مل گئے تو وہ نجم سیٹھی کی طرح طاقتور افسر بن جائیں گے جب کہ چیئرمین پی سی بی کے اختیارات کم ہوجائیں گے۔