قومی کرکٹ کوچ مکی آرتھر ایک بار پھر متنازعہ

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر غیرملکی ہیں اس پر بیشتر سابق کرکٹرز اعتراض اٹھاتے ہیں مگر پی سی بی کو شکوہ ہے کہ جونیئر ٹیموں کی کوچنگ کے لیے بڑے نام سامنے نہیں آتے۔

ڈائریکٹر اکیڈمی مدثر نذر کہتے ہیں کہ مکی آرتھر کے غیر ملکی ہونے پر اعتراض تو اٹھایا جاتا ہے مگر مقامی کوچ راضی نہیں۔ تنخواہیں کم، محمد یوسف کو بیٹنگ کوچ رکھنا مشکل ہے۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی پاکستان میں کرکٹ کا سب سے بڑا ادارہ مگر اندر آئیں تو کوچنگ میں بڑے نام دکھائی نہیں دیں گے۔ بیشترکوچز وہ ہیں جنہیں انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ ہی کم ہے۔ ڈائریکٹر این سی اے مدثر نذر نے اس کی وجہ بھی بتائی ہے۔

اس وقت بلے بازی کے شعبے کو بہتر کرنے کے لیے بڑے نام کی ضرورت ہے مدثر نذر چاہتے ہیں کہ محمد یوسف جیسا بڑا کرکٹر مل جائے تو سونے پہ سہاگا مگر یہاں بھی ایک مسلہ آڑے آتا ہے۔ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی تنخواہ 20 لاکھ روپیہ ہے اور انتظامیہ میں دیگر عہدیداران بھی اچھے پیسے وصول کرتے ہیں مگر مقامی کوچز کا معاملہ ہو تو ہاتھ تنگ پڑ جاتا ہے۔

You might also like