’’ٹوکیو اولمپکس 2020ء‘‘تک رسائی کے خواہشمند

سابق گول کیپر 31سالہ عمران بٹ نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ہالینڈ کے خلاف فتح کے ساتھ ’’ٹوکیو اولمپکس 2020ء‘‘ تک رسائی حاصل کرے،

پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر 31سالہ عمران بٹ نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ہالینڈ کے خلاف فتح کے ساتھ ’’ٹوکیو اولمپکس 2020ء‘‘ تک رسائی حاصل کرے، تاہم انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اولمپئین ریحان بٹ کے بھائی گول کیپرعمران بٹ نے چند ماہ پہلے بین الاقوامی ہاکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا، چند روزقبل لاہور میں انہوں نے پی ایچ ایف کے سیکریٹری اولمپئین آصف باجوہ سے ملاقات کی تھی، جہاں انہوں نے بین الاقوامی ہاکی میں اولمپئین خواجہ جنید کی موجودگی میں واپسی کا امکان مستردکردیا۔

عمران بٹ کا موقف ہے کہ چیف سلیکٹرمنظورجونئیراوراولمپئین خواجہ جنید کی وہ بطورسینئرعزت کرتے ہیں، البتہ انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں کچھ عرصے پہلے فیڈریشن پرتنقید کررہے تھے،اب عہدہ لے کرخاموش ہو گئے ہیں۔  سابق گول کیپرنے چیف سلیکٹر منظورجونیئراور خواجہ جنید پرشدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بناء منصوبہ بندی دونوں قومی کھیل کوآگے نہیں لے جاسکتے اورانہیں لگتا ہے کہ ماضی کے تجربات کے بعد فیڈریشن کا آزمائے ہوئے اولمپئینز کی طرف دیکھنا،نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

عمران بٹ نے کہا کہ وہ دعا گوہیں کہ پاکستان ہاکی ٹیم ہالینڈ کو شکست دے کراولمپک کے لئے کوالیفائی کرے لیکن انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مینجمنٹ اب سے ہی 2024ء اولمپکس کی تیاری کی باتیں کرنے لگی ہے،کیوں کہ انہیں ابھی سے ہی اپنے کل کی فکرستانے لگی ہے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept