Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

کھیل

ایشیاء کپ: پاک بھارت میچوں کی تفصیلی رپورٹ

Rashid Saeed

Published

on

pakistan and india

لاہور(راشد سعید سے ) 
ایشیاء کپ 2018ء کا آغاز کل سے متحدہ عرب امارت میں ہو رہا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ 15 ستمبر سے 28 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شرکت کریں گی جنہیں گروپ ’اے‘ اور ’بی‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایونٹ کے گروپ اے میں دفاعی چیمپئن بھارت، پاکستان اور ایک کوالیفائر ٹیم (ہانگ کانگ ) شامل ہے جبکہ گروپ بی سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان پر مشتمل ہے۔

ایشیاء کپ 2018 میں شرکت کے لیے پاکستانی ٹیم دبئی پہنچ گئی ہے جس میں کپتان سرفراز احمد، فخر زمان، امام الحق، شان مسعود، بابر اعظم، شعیب ملک، آصف علی، حارث سہیل، محمد نواز، فہیم اشرف، جنید خان، عثمان شنواری، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، حسن علی اور محمد عامر شامل ہیں۔

ایشیا کپ کا آغاز سال 1984 میں کیا گیا تھا، اس کی 34 سالہ تاریخ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 12 میچز کھیلے گئے ہیں جس میں سے 5 پاکستان ور 6 میچز بھارت نے جیتے جبکہ ایک میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا۔

اس سال کے شیڈول کے مطابق 19ستمبر کو پاک بھارت کے درمیان 13واں ( ایشیاء کپ ) میچ کھیلا جائے گا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میچ میں بازی کون لے جائے گا؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے اب تک کے میچز پر:

1984(متحدہ عرب امارات): بھارت 54 رنز سے جیت گیا
ایشیا کپ کا پہلا میچ 1984 میں شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 188 رنز کا ٹارگٹ دیا جبکہ پاکستانی ٹیم یہ ہدف پورا نہ کر سکی اور 134رنز پر پوری ٹیم ڈھیر ہوگئی۔ اس میچ میں بھارت کو 54 رنز سے کامیابی حاصل ہوئی تھی 

1988(بنگلادیش): بھارت 4 وکٹوں سے جیتا
ایشیاء کپ کا دوسرا ٹورنامنٹ 1988 میں بنگلا دیش میں کھیلا گیا اس ٹورنامنٹ میں بھی بھارت نے پاکستان کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی ۔ اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو 142 رنز کا ہدف دیا جو کہ بھارت نے 6 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

1995(متحدہ عرب امارات) پاکستان 97 رنز سے جیتا
ایشیا کپ کا تیسرا ایونٹ 1995 میں شارجہ میں کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان نے 266 رنز بنائے۔ انضام الحق اور وسیم اکرم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیاجبکہ بھارتی کرکٹ ٹیم ہدف پورا نہ کرسکی اور پوری ٹیم 169 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

1997(سری لنکا): بارش کے باعث میچ منسوخ ہوگیا
1997ء میں ایشیا کپ کا میچ کولمبو میں کھیلا گیا تھا یہ میچ بارش ہونے کی وجہ سے منسوخ ہوگیا اور اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیاتھا۔

2000 (بنگلادیش): پاکستان 44 رنز سے جیت گیا
2000ء میں ٹورنامنٹ کے پانچویں میچ میں پاکستان نے بہترین بیٹنگ کی اور میچ اپنے نام کرلیا، سال 2000 میں بنگلادیش میں کھیلے جانے والے میچ میں صرف ’محمد یوسف‘ کی سنچری کافی تھی میچ جیتوانے کے لیے اس کے علاوہ پاکستان نے 8 چوکے اور 4 چھکے لگاکر 295 رنز سکور بنائے جس کے جواب میں بھارت اپنا ہدف پورا نہ کرسکا اوراس میچ میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

2004(سری لنکا): پاکستان 59 رنز سے جیتا
2000 ء کے بعد ایشیاء کپ کا انعقاد 2004ء میں ہوا اس کپ میں دو میچز ہارنے کے بعد پاکستان کو لگاتار تیسری مرتبہ بھارت کے مقابلے میں جیت کا سامنا رہا۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف 300 رنز بنائے جو کہ ’شعیب ملک‘ کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ 2004 میں سری لنکا میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کو جیت شعیب ملک نے دلوائی، اس کے علاوہ کوئی دوسراپاکستانی بیٹسمین 50رنز کی بھی اننگ نہ کرسکاجبکہ شعیب ملک نے 18 چوکوں اورایک چھکے پر مشتمل اننگ کھیلی تھی ۔

2008(پاکستان): بھارت 6 وکٹوں سے جیتا
ایشیا ء کپ کا ساتواں میچ پاکستان کے شہر کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا گیا، اپنے ملک میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستان بھارت سے ہار گیا۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 299 رنز کا ہدف مخالف ٹیم کو دیا جبکہ بھارت نے ہدف پورا کرتے ہوئے جیت اپنے نا م کی تھی اور پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

سپر فورز(super fours): پاکستان 8 وکٹوں سے جیت گیا
پاکستان کو گروپ سٹیج میں اپنی شکست برداشت نہیں ہوئی اور پھر سپر فورز میں جیت کر پاکستان نے اپنی ہار کا بدلہ لے لیا۔ اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت نے 308 رنز بنائے جبکہ مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی باری آنے پر ناصر جمشید اور سلمان بٹ کی شاندار بیٹنگ نے بھارت کوپریشانی میں مبتلا کردیا بعد از یونس خان اور مصباح الحق نے ایسے ہی بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروایا تھا اور بھارت کو 8 وکٹوں سے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

2010 (سری لنکا): بھارت 3 وکٹوں سے جیت گیا
سال 2010 میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں نے اس طرح سے سکور نہیں کیا جیسے پچھلے چار میچز میں کیا گیا تھا۔ بھارت میں مقابلے میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 267 رنز بنائے۔ اس میچ میں سلمان بٹ اور کامران اکمل نمایاں رہے۔ پاکستانی باؤلرز کی خراب کارکردگی کے سبب پاکستان کو شکست کا سامنا رہا اور بھارت نے 7 وکٹوں کے نقصان پر ہدف پورا کرلیا۔

2012(بنگلادیش): بھارت 6 وکٹوں سے جیتا
ایک بار پھر پاکستان نے 2012 میں بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے 300 سے زائد رنز بنا ڈالے۔ اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرکے پاکستان نے بھارت کو 329 کا ہدف دیا۔ میچ کے آغازمیں محمد حفیظ اور ناصر جمشید نے مشترکہ 244 رنز بنائے بعد میں یونس خان نے 34 گیندوں پر 52 رنز بناکرٹوٹل 329 سکور بنا دیا۔ بھارت کی جانب سے ویرات کوہلی اور سچن ٹنڈولکر نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اورجیت اپنے نام کی۔

2014(بنگلادیش): پاکستان کی 1 وکٹ سے جیت
سال 2014 میں بنگلادیش میں کھیلے جانے میچ میں بھارت جیتا میچ ہارا تھا اس میچ میں سابق کپتان شاہد آفریدی نے فلمی انداز میں 2 لگاتار چکھے لگا کر قومی ٹیم کو جیت دلوادی تھی جبکہ بھارت سمیت پاکستانی عوام بھی اس کامیابی پر حیران تھی۔ اس میچ میں شاہدخان آفریدی مین آف دی میچ قرار پائے۔

2016(بنگلادیش): بھارت کی 5 وکٹوں سے جیت
ایشیا کپ کے بارہویں میچ میں بھارت نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ پاکستان کوبدترین شکست کا سامنا رہاتھا ۔اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے محض 83 رنز بنائے تھے اور بھارت نے یہ ہدف با آسانی 5 وکٹوں پر حاصل کر لیا تھا۔ 

کھیل

ورلڈ کپ کیلیے قومی ٹیم کا اعلان

Published

on

pak hocky team

لاہور میں دو روزہ ٹرائلز کے بعد چیف سلیکٹر اصلاح الدین صدیقی نے ساتھی سلیکٹرز ایاز محمود، قاسم خان اور مصدق حسین سے مشاورت کے بعد ہاکی ورلڈکپ کے لیے 18 رکنی قومی ٹیم کا اعلان کیا جس میں رضوان سینئر کو کپتان برقرار رکھا گیا ہے جب کہ رضوان جونئیر کی جگہ راشد محمود کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

اعلان کردہ ٹیم میں مظہر عباس ، عمران بٹ،عرفان سینئر، مبشرعلی، علیم بلال، فیصل قادر، عماد بٹ، توثیق ارشد،راشد محمود، تصور عباس، اعجاز احمد، عمر بھٹہ، عرفان جونیئر، رضوان سینئر، علی شان ، ابوبکر، محمد عتیق اور محمد زبیر شامل ہیں۔ فائنل فہرست کرنے سے پہلے ٹیم مینجمنٹ کی بھی رائے بھی لی گئی جب کہ دوسرے روز ہلکی بارش میں بھی ٹرائلز لئے گئے۔

ورلڈکپ کا آغاز 28 نومبر سے بھارت کے شہر بھوبینیشور میں ہورہا ہے۔ پاکستان کو گروپ ڈی میں جرمنی۔ ملایشیا اور ہالینڈ شامل ہیں۔ قومی ٹیم جرمنی کے خلاف میچ سے اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ پاکستانی ٹیم کی 21 نومبر کو روانگی طے ہے۔

واضح رہے قومی ہاکی ٹیم 8 برس ورلڈکپ میں شرکت کررہی ہے، 2010 میں بھارت ہی میں پاکستانی ٹیم نے آخری بار ورلڈ کپ کھیلا تھا اور انتہائی مایوس کن پرفارمنس دی تھی۔ 2014 میں قومی ٹیم میگا ایونٹ میں کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی تھی۔

Continue Reading

کھیل

تو کیا داتا دربار میں رہوں؟

Published

on

ehsan mani 1

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ اگر میں لاہور میں کرائے پر گھر نہ لوں تو کیا داتا دربار میں رہوں؟

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ لاہور میں میرا گھر نہیں ہے، اگر فائیو اسٹار ہوٹل میں رہوں تو ہفتے کے اخراجات سوا لاکھ روپے ہیں، اس لیے میں نے لاہور میں کرائے پر گھر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو شک و شبہ نہ ہو کہ میرے پاس صرف پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانی شہریت ہے۔

پی سی بی میں منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کو اس لیے سب سے بڑی تنخواہ دینی پڑ رہی ہے کیوں کہ ہم قابل لوگ لانا چاہ رہے ہیں، یا تو ہم چند لاکھ روپے والے پانچ چھ لوگ رکھ لیں،اس سے بہتر ہے کہ ایک قابل شخص کو رکھ کر اسے مناسب تنخواہ دے دی جائے لیکن اس میں بھی شفافیت ہوگی۔

احسان مانی نے کہا کہ مارکیٹ ریٹ نہیں دیں گے تو اچھے افسران اور کوچز نہیں ملیں گے، ہم کم قابلیت والے لوگوں کے بجائے قابل لوگ رکھنا چاہتے ہیں، بدقسمتی سے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سیاسی بنادیا گیا تھا میں ایسا سسٹم بنانا چاہتا ہوں کہ یہ سسٹم میرے بعد بھی پروفیشنل انداز میں چلے جس میں سزا اور جزا کا بھی نظام ہو، ایم ڈی کا تقرر اس لیے ہے کہ وہ سسٹم کو بغیر کسی مداخلت کے چلائے اور چیئرمین سسٹم میں مداخلت نہ کرے۔

Continue Reading

کھیل

کشمیر سے متعلق بیان نے نیا تنازع کھڑا کردیا

Published

on

shahid afridi

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کے کشمیر سے متعلق بیان نے نیا تنازع پیدا کردیا۔

شاہد آفریدی نے ایک تقریب میں گفتگو کے دوران کہا کہ ‘ پاکستان سے چار صوبے نہیں سنبھل رہے، کشمیر پاکستان کو نہ دیں، بھارت کو بھی نہ دیں، کشمیر ان کا اپنا رہنے دو، کشمیر کوئی ایشو نہیں ہے دنیا نے اس کو ایشو بنایا ہوا ہے’۔

بعد ازاں شاہد خان آفریدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وضاحت کی کہ ‘میرے بیان کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی، میں اپنے وطن سے بہت محبت کرتا ہوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، انسانیت سب سے بالاتر ہونی چاہیے اور انہیں ان کے حقوق ملنے چاہئیں’۔

Continue Reading
Advertisement

مقبول خبریں