انڈے کے چھلکوں سے لیتھیم آئن بیٹری تیار

empty eggs
WebDesk 2 WebDesk 2 , مارچ 16, 2019

مرغی کے انڈوں کے بے کار چھلکوں سے دیرپا اور مؤثر بیٹری بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے اور اس کے تحت ماحول دوست اور کم خرچ بیٹریاں تیار کی جاسکتی ہیں۔

جرمنی کی ہیم ہولٹز یونیورسٹی میں بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے عام مرغی کے انڈوں کے چھلکوں کو پہلے دھویا اور خشک کرکے اس کا سفوف بنایا۔ چھلکے کے سفوف  میں بیرونی سطح پر پائی جانے والی کیلشیئم کاربونیٹ بھی موجود تھی اور پروٹین سے بھرپور اندرونی جھلی کو بھی پیسا گیا۔

بعد ازاں اس مٹیریل کو ایک برقیرے (الیکٹروڈ) کے طور پر استعمال کیا گیا لیکن اس میں بجلی گزارنے والا غیرمائع مٹیریل استعمال کیا گیا تھا اس سے جو بیٹری سیل بنایا گیا اس میں بجلی برقرار رکھنے کی شرح 92 فیصد تھی اور اسے 1000 مرتبہ ری چارج اور استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگرچہ بجلی کو تھامے رکھنے کی یہ صلاحیت کیلشیئم کاربونیٹ کی وجہ سے ہے جو انڈے کے خول میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح انڈے کے چھلکے کو پیس کر اس سے کم خرچ لیتھیئم آئن بیٹیریاں بنائی جاسکتی ہیں۔

یونیورسٹی سے وابستہ ماہر اور تجرباتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر میکسی میلن فشٹنر نے کہا ہے کہ قدرتی نظام میں یہ ایک اہم مٹیریل ہے جو برقی کیمیائی ذخیرے کے لیے بہت ہی مناسب ہے۔ ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس طرح نہایت کم خرچ اور ماحول دوست بیٹریاں تیار کرنا ممکن ہوسکے گا۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.