اسرائیلی انجینئرنے سب کو حیران کر دیا مگر کیسے؟

اسرائیلی انجینئرنے دنیا کے سب سے چھوٹے مگر طاقتور ترین کار انجن بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ 10 کلو گرام وزنی انجن کار کو 1200 کلو میٹر تک چلا سکتا ہے۔

تل ابیب کیرہائشی شول یعقوبی نے برسوں کی محنت سے یہ انجن بنایا ہے جسے ایک بیگ میں رکھ کر کمر کے پیچھے باندھا جاسکتا ہے۔ اسے ایکوائرس انجن نے تیار کیا ہے جبکہ اس کے صرف ایک درجن کے لگ بھگ حرکتی پرزے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کے تمام جدید ترین انجنوں سے بھی 10 فیصد مؤثر ہے۔ کہ فی الحال یہ کڑی آزمائش سے گزر رہا ہے اور 2020 کے ا?خر تک تجارتی طور پر تیار ہوگا اور 2022 تک اسیگاڑیوں میں لگایا جاسکے گا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں: صارفین جلد ’گیمنگ پلیٹ فارم‘ سے محظوظ ہوسکیں گے

شول یعقوبی کے مطابق سادہ احتراقی (کمبسشن) انجن 150 سال سے نہیں بدلا گیا اور ہم نے اسے اہم امور تک محدود کرکے صرف 10 کلووزن تک محدود کردیا ہے اور اس کے 20 پرزے ملکر اسے 200 کلوگرام والے انجن کی طاقت دیتے ہیں۔ یعقوبی کے مطابق ہم گاڑیوں میں فالتو کا سینکڑوں کلوگرام وزن لے کر گھوم رہے ہیں جو ایندھن اور رفتار میں مزاحم ہے۔ اس ضمن میں نیا انجن کم خرچ بالانشین کے مصداق پر ایک ماحول دوست، کم خرچ اور بہترین کارکردگی والا ایجاد ہے۔ ایکوائرس انجن کے سربراہ گیل فرائیڈمان نے کہا ہے کہ اس چھوٹے سے انجن کو جنریٹر میں بھی بدلا جاسکتا ہے اور یہ ایک مرتبہ چارج یا ایندھن بھرنے کے بعد 15 دن تک ایک اوسط اپارٹمنٹ کو بجلی فراہم کرسکتا ہے۔ ماہرین نے اسے ماحول دوست انقلابی ایجاد قرار دیا ہے۔