برفباری سے بجلی بنانے والا انقلابی آلہ تیار

orgon
WebDesk 2 WebDesk 2 , اپریل 20, 2019



ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ رونما ہوا ہے مصر کے ایک سائنسداں ڈاکٹر ماہر القادی نے ایک ایسی تکنیک وضع کی ہے جس کی بدولت اب برفباری سے بھی بجلی تیار کی جاسکتی ہے.

اس میں ٹرائبوالیکٹرک کا سادہ اصول کارفرما ہے یعنی جب دو مختلف مادے (مٹیریل) آپس میں ملتے ہیں تو چارج پیدا ہوتا ہے۔ اسے بنانے والے ماہرین کہتے ہیں کہ برفباری کے ذرات میں قدرتی طور پر مثبت برقی چارج ہوتا ہے۔

’ برف پر پہلے سے ہی چارج ہوتا ہے تو کیوں نہ اسے مخالف چارج والے سے ملایا جائے تاکہ بجلی اخذ کی جاسکے؟ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے کیمیاداں ماہرالقادی نے کہا جو نینوٹیک انرجی کمپنی کے سی ٹی او بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے اس ٹیکنالوجی پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔

اگرچہ اب تک بہت سارے ایسے ٹرائبوالیکٹرک نینوجنریٹر( ٹی ای این جی) تیار ہوچکے ہیں جو بارش کے قطروں، ہلکی حرکت، ٹائروں کی رگڑ اور خاص بورڈ پر چہل قدمی سے بھی بجلی بناسکتے ہیں۔ تحقیقی ٹیم کے دوسرے رکن رچرڈ کینر نے کہا کہ جب ایک مٹیریل کے الیکٹرون اتر کر دوسرے مٹیریل پر جاتے ہیں تو اس عمل کو برق سکونی (اسٹیٹک الیکٹرسٹی) کہا جاتا ہے۔

ماہرالقادی نے بتایا کہ انہوں نے بہت سے مادے آزمائے جن میں سلیکون سے بنے نینوجنریٹرنے سب سے بہتر کام دکھایا ہے۔ انہوں نے تھری ڈی پرنٹنگ سے الیکٹروڈ تیار کئے ہیں اور انہیں خاص قسم کے جوتوں کے نیچے لگایا ہے مگران سے بجلی کی بہت معمولی مقدار ہی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم ٹی ای این جی میں شمسی پینل لگا کر اس کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ماہر اور دیگر کہتے ہیں کہ کرہ ارض پر چار کروڑ 60 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر برف پڑتی ہے اور اس طرح بہت بڑے پیمانے پر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ تاہم ایک فرد ضرور اس قابل ہوجائے گا کہ وہ برف پر چلتا یا پھسلتا جائے تو اپنے فون اور دیگر دستی آلات کے لیے بجلی تیار کرسکے۔

اس کے علاوہ برف سے بجلی بنانے والے ٹی ای این جی سے موسمیاتی اسٹیشن اور دیگر آلات کو بجلی فراہم کرنا ممکن ہوگی اور اس کے لیے بیرونی ذرائع سے بجلی دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ تفصیلات نینو انرجی میں شائع ہوئی ہے۔

khouj

Established in 2017, Khouj is a news website, which aims at providing news from all the spheres of life. In the contemporary world, Khouj News aims at providing authentic news unlike other major news sources on social media.