ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی پیش رفت

انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرونکس میں گزشتہ کئی سال سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو جدید تر بنانے پر کام ہورہا ہے

صوبہ سیچوان میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ الیکٹرونکس میں گزشتہ کئی سال سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو جدید تر بنانے پر کام ہورہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تازہ پیش رفت میں پروفیسر لوو ژیانگانگ اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کم خرچ اور ہلکا پھلکا مادہ بنالیا ہے جو ہر قسم کی ریڈار لہریں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسے بہت آسانی سے بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جاسکتا ہے۔

ویب سائٹ ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کے مطابق، اس مادّے پر مشتمل خاص جھلی یعنی ’’میٹا ممبرین‘‘ (meta membrane) کو اگر کسی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز پر چڑھا دیا جائے تو وہ کسی بھی طرح کی ریڈار لہریں جذب کرلے گا اور یوں کسی بھی قسم کے ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہے گا۔

واضح رہے کہ اب تک طیاروں کو اسٹیلتھ بنانے کے لیے جتنے بھی خصوصی مادّے تیار کیے گئے ہیں، وہ ایک طرف تو بہت مہنگے اور وزنی ہیں تو دوسری جانب وہ ایک محدود فریکوئنسی والی ریڈار لہریں ہی جذب کرسکتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی ریڈار بہت بلند (ہائی) فریکوئنسی پر کام کررہا ہو یا طیاروں پر نظر رکھنے کے لیے بیک وقت کئی طرح کی فریکوئنسی استعمال کررہا ہو تو جدید ترین اسٹیلتھ طیارے پر کی گئی کوٹنگ سے بھی اس ریڈار کی لہریں پلٹ کر واپس آئیں گی اور یوں وہ طیارہ ریڈار (اسٹیلتھ ہونے کے باوجود) اس ریڈار کی اسکرین پر بہ آسانی دکھائی دے جائے گا۔

چینی ماہرین نے جو میٹا ممبرین تیار کی ہے، وہ 0.3 گیگا ہرٹز سے 40 گیگا ہرٹز تک کی ریڈار لہروں کا بیشتر حصہ جذب کرلیتی ہے؛ اور یوں وہ اپنے اندر ملفوف کسی بھی طیارے، ٹینک یا بحری جہاز کو جدید سے جدید ریڈار کی نظروں سے بھی اوجھل کردیتی ہے۔

اس کامیابی کے بعد چینی ماہرین مذکورہ میٹا ممبرین کی زیادہ مقدار میں پیداوار کی تیاری کررہے ہیں جس کے بعد اسے بطورِ خاص لڑاکا طیاروں پر آزمایا جائے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ ممبرین شدید دباؤ اور درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept