واٹس ایپ صارفین کے لئے خوفناک خبر آگئی

اس ٹول کی مدد سے کوئی بھی بدنیت صارف جعلی خبر (فیک نیوز) بنا سکتا ہے اور فراڈ کر سکتا ہے: محققین

واٹس ایپ صارفین کے لئے خوفناک خبر آگئی، اس ایپ میں ایسی خامیاں سامنے آئی ہیں جن کے ذریعے آپ کسی کے بھی پیغام میں اپنی مرضی کی تبدیلی کر سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایک نئے ریلیز کیے گئے ٹول کے ذریعے واٹس ایپ پر آپ کسی کے بھی منہ میں اپنے الفاظ ڈال سکتے ہیں۔ سائبر سکیورٹی پر کام کرنے والی فرم چیک پوائنٹ نے مذکورہ ٹول کے ذریعے اس بات کا عملی مظاہرہ کرکے بھی دکھایا ہے کہ کیسے یہ کسی کے بھی پیغام میں من چاہی تبدیلی کر سکتا ہے جسے پکڑا بھی نہیں جا سکتا۔ چیک پوائنٹ نے گزشتہ سال اس حوالے سے اپنا مقالہ شائع کیا تھا جس کے بعد اب اس ٹول کا عملی مظاہرہ لاس اینجلس میں سائبر سکیورٹی کانفرنس بلیک ہیٹ کے دوران کیا گیا ہے۔

فرم کے ایک محقق اوڈڈ وینونو نے بتایا ہے کہ اس ٹول کی مدد سے کوئی بھی بدنیت صارف جعلی خبر (فیک نیوز) بنا سکتا ہے اور فراڈ کر سکتا ہے۔ اس ٹول کے ذریعے کسی بھی شخص کے پیغام کے الفاظ اس طرح تبدیل کیے جا سکتے ہیں کہ جیسے وہ اسی نے ہی لکھے ہیں حالانکہ حقیقت میں اس کے پیغام میں وہ باتیں شامل ہی نہ تھیں۔ مذکورہ ٹول نے پیغام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کی سکیورٹی کی ایک اور خامی کو بے نقاب کیا ہے جس کے ذریعے بھیجنے والے شخص کی شناخت کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے یعنی آپ کسی ایک شخص کا پیغام دوسرے سے منسوب کر سکتے ہیں۔

محققین نے واٹس ایک میں ایک تیسری خامی کی بھی نشاندہی کی تاہم اسے فیس بک نے درست کر دیا جب کہ پیغام اور شناخت میں تبدیلی جیسی خامیوں کو درست کرنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ اوڈڈ وینونو کا کہنا ہے کہ فیس بک نے انہیں بتایا ہے کہ دیگر خامیاں واٹس ایپ میں موجود حدبندیوں کے باعث دور نہیں کی جا سکتیں۔اس کی بنیادی وجہ واٹس ایپ میں استعمال کی گئی انکرپشن ٹیکنالوجی ہے جس کی وجہ سے فیس بک کے لیے یہ صارفین کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی پیغام کو مانیٹرکرنا اور اس کے مستند ہونے کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہے۔

You might also like

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept