موبائل فون خفیہ ریکارڈنگ کرنے لگے؟

موبائل فونز کی سیکیورٹی پر کام کرنے والی ایک کمپنی نے اس مقبولِ عام سازشی نظریے سے نمٹنے کے لیے ایک ریسرچ کرائی ہے

موبائل فون خفیہ ریکارڈنگ کرنے لگے؟، موبائل فونز کی سیکیورٹی پر کام کرنے والی ایک کمپنی نے اس مقبولِ عام سازشی نظریے سے نمٹنے کے لیے ایک ریسرچ کرائی ہے کہ آیا ٹیک کمپنیاں صارفین کی گفتگو سنتی ہیں اور ریکارڈ کرتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا اس طرح کی پوسٹوں اور ویڈیوز سے بھرا ہوا ہے کہ فیس بک اور گوگل جیسی بڑی بڑی کمپنیاں صارفین کی جاسوسی کرتی ہیں تاکہ انھیں اشتہارات کی مختلف قسم کی مہموں کا نشانہ بنایا جا سکے۔ ایسی کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں لوگ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کے انھوں نے جن مصنوعات پر بات کی خاص انہی کے بارے میں آن لائین پلیٹ فارمز پر اشتہارات نے انھیں آن گھیرا۔

تاہم، حال ہی میں موبائل فونز کی سیکیورٹی کی ایک کمپنی ’ونڈیرا‘ نے اس سازشی نظریے کے بارے میں سچ جاننے کے لیے آن لائین تجربات کو دو تین مرتبہ دوہرایا، تو معلوم ہوا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ موبائل فونز یا ایپس صارفین کی جاسوسی کرتے ہیں۔ ریسرچرز نے دو فونز لیے، ایک سیمسنگ اینڈروئیڈ، اور دوسرا ایپل آئی فون، ان دونوں کو ایک آڈیو روم (شور والے کمرے) میں رکھ دیا۔ تقریباً تیس منٹ تک ان کے موجودگی میں تکرار کے ساتھ بلیوں اور کتوں کی غذا کے بارے میں اشتہارات سنائے گئے۔ ریسرچرز نے اسی طرح کے دو فونز ایک ایسے کمرے میں رکھ دیے جہاں خاموشی تھی۔

سیکیورٹی ماہرین نے ان موبائل فونز کے تمام ایپس فیس بک، انسٹاگرام، کروم، سنیپ چیٹ، یو ٹیوب، اور ایمیزون پر ہر پلیٹ فارم کی مکمل اجازت کے ساتھ کھلے یا آن رکھے۔ اس کے بعد انھوں نے ان فونز کے تمام ایپس اور پلیٹ فارمز پر پالتو جانوروں کی غذا کے بارے میں اشتہارات تلاش کیے۔ اس تجربے کے دوران ریسرچرز نے ان فونز کی بیٹری کے استعمال کی رفتار اور مقدار بھی چیک کی۔ ریسرچرز نے اس ٹیسٹ کو تین دن تک دوہرایا اور انھیں ’آڈیو روم‘ میں رکھے گئے فونز پر پالتو جانوروں کی غذا کے اشتہارات میں یا بیٹری کے استعمال کی مقدار میں کوئی خاص اضافہ نظر نہیں آیا۔

آڈیو روم میں رکھے جانے موبائل فونز اور خاموش کمرے میں رکھے جانے والے فونز پر ہونی والی سرگرمیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ البتہ انھوں نے یہ ضرور نوٹ کیا کے موبائل فونز سے ڈیٹا کی آمد و رفت جاری رہی۔ لیک ڈیٹا کا یہ ٹرانسفر بہت کم سطح کا تھا، اور ’سیری‘ یا ’ہائے گوگل‘ کے استعمال کے وقت ہونے والے ڈیٹا ٹرانسفر کی مقدار سے بہت ہی کم تھا۔

’ونڈیرا‘ کے سسٹم انجینئیر، جیمز میک، کہتے ہیں کہ ’ہمارا مشاہدہ تھا کہ ان تیس منٹوں کے دوران ہمارے ٹیسٹ کا ڈیٹا ٹرانسفر ورچؤل اسسٹنٹ ڈیٹا کے ٹرانسفر سے بھی بہت کم تھا۔ جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس دوران یعنی ان تیس منٹوں میں لوگوں کی بات چیت کی ریکارڈنگ اور اس کی کلاؤڈ میں اپلوڈنگ جیسی کوئی سرگرمی کسی ایپ کے ذریعے نہیں ہو رہی تھی۔ میک کا کہنا تھا کہ ’تاہم اگر یہ ریکارڈنگ ہو رہی ہوتی تو ہم ڈیٹا کا اُس اونچی سطح کا استعمال دیکھتے جو عموماً ورچؤل اسسٹنٹ ڈیٹا کے استعمال کے دوران ہوتا ہے۔‘

کئی برسوں سے ٹیک کمپنیاں یہی کوشش کرتی رہیں کہ وہ اس بات کو غلط ثابت کریں کہ وہ موبائل فونز میں لگے مائیکرو فونز کو صارفین کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ پچھلے برس فیس بک کے سربراہ مارک زُکربرگ سے امریکی سینیٹ میں ایک پیشی کے دوران یہی پوچھا گیا تھا کہ کیا ایسا ہو رہا ہے؟ تو انھوں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔ تاہم، ان بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کے بارے میں اعتماد کا فقدان بڑھ چکا ہے۔ کئی صارفین یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی جاسوسی ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینڈروئیڈ فونز کے ایپس خاموش کمرے میں زیادہ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں جس کے ساتھ ’آئی او ایس‘ ایپس آڈیو روم میں زیادہ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انھیں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے طے کیا ہوا ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی ریسرچ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

شاید آپ یہ خبریں بھی پسند کریں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept