Connect with us

ٹیکنا لوجی

گہرائی میں دفن رازافشا

Published

on

گہرائی میں دفن رازافشا

معروف سائنسی جریدے نیچر میں امریکا کے جیولوجیکل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سائنس دان اوون سمتھ کی قیادت میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے نیلے ہیرے پر اپنی تحقیق پیش کی ہے جس میں نیلے ہیرے سے متعلق اہم حقائق اور اس کی رنگت کی سائنسی وجوہات پر گفتگو کی گئی ہے۔ سائنس دانوں نے دنیا بھر سے منتخب کیے گئے نیلے ہیروں کا مطالعہ کیا جس میں 2016 میں 25 ملین ڈالر کے عوض نیلام ہونے والا جنوبی افریقہ کا قیمتی ’ نیلا ہیرا‘ بھی شامل تھا۔ مطالعے سے حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ نیلا ہیرا زمین کے اندر 410 میل کی گہرائی میں پیدا ہوتا ہے۔ امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیلے ہیرا کی تشکیل زمین کے نچلے حصے ’ مینٹل‘ میں ہوتی ہے جہاں معدنیات کے کچھ ٹکڑوں کے پھنس جاتے ہیں۔ معدنیات کے ان ٹکڑوں پر کثیف دباؤ کی وجہ سے ’نیلا ہیرا‘ جنم لیتا ہے۔ نیلے ہیرے کی پیدائش میں کاربن کی قلموں کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ چنانچہ ارضیاتی مطالعے میں ’نیلے ہیرے‘ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس کے علاوہ جتنے بھی ہیروں کی اقسام کی ہے وہ زیادہ سے زیادہ زمین کی اندر محض 125 میل کی گہرائی میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے جو زمینی راز نیلا ہیرا افشا کرسکتا ہے وہ کسی اور ہیرے کے بس میں نہیں۔ نیلے ہیرے میں بورون نامی عنصر بھی پایا جاتا ہے جو لاکھوں سال قبل سمندری پانی میں پایا جاتا تھا اور اب حیران کن طور پر زمین کی تہہ کے اندر تک پہنچ چکا ہے اسی بناء پر سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نیلے ہیرے پر مزید تحقیق سے اپنے سیارے کے بری اور بحری حصے کی تاریخ معلوم کی جاسکتی ہے۔
سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ ’ نیلے ہیرے‘ کو محض زیبائش کی چیز نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ارضیاتی تبدیلیوں اور زمین کی ساخت و تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم اور موثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیکنا لوجی

موبائل ،ٹیبلٹ ٹوٹنے سے بچ گیا

Published

on

موبائل ،ٹیبلٹ ٹوٹنے سے بچ گیا

پلگو! بچوں کو ٹیبلٹ کی لت سے نجات دینے والا ٹیبلٹ کھلونا تیارتقریباً تمام والدین اپنے بچوں میں ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون سے گھنٹوں کھیلتے رہنے کی عادت سے شدید پریشان ہیں۔ اب بچوں کی اس خراب لت کو دور کرنے کے لیے ایک انٹرایکٹو ہارڈویئر گیم بنایا گیا ہے جسے ’پلگو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ماہرین خبردار کرچکے ہیں کہ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ سے خارج ہونے والی بلیو لائٹ آنکھوں کے ان خلیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے جو روشنی جذب کرنے اور دیکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر بچوں کی نازک بینائی ان آلات سے شدید متاثر ہوسکتی ہے۔پلے شائفو نامی کمپنی نے پلگو گیم تیار کیا ہے جو ’’لیگو‘‘ کی طرح چند ٹکڑوں، ایک پلیٹ فارم اور ٹیبلٹ پر مشتمل ہے جسے تعلیمی اور سیکھنے سکھانے کے عمل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ پلگو بچوں کو براہِ راست ٹیبلٹ کو دیکھنے سے بھی روکتا ہے۔اس گیم کے لیے بہت سے کنٹرولرز بھی بنائے گئے ہیں۔ جب بچے ٹیبلٹ کے سامنے کھلونے رکھتے ہیں تو وہ اسکرین پر انٹریکٹو انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔ بچے اسکرین کو دیکھتے ہوئے سادہ تجربات، آلات اور کھلونے تیار کرسکتے ہیں۔ پلگو پانچ سے لے کر گیارہ برس تک کے بچوں کےلیے تیار کیا گیا ہے۔اس میں ایک گیم پلگو اسٹیر ہے جس میں بچے کار کے پلاسٹک ہینڈل استعمال کرتے ہوئے اسکرین پر گاڑی دوڑاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیل کھیل میں ریاضی اور جیومیٹری کے بہت سے تجربات بھی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زبان سیکھنے اور نئے الفاظ جاننے کےلیے بھی کئی معاون گیم بنائے گئے ہیں۔

Continue Reading

ٹیکنا لوجی

سینسر بوتل تیار

Published

on

سینسر بوتل تیار

ہونٹوں کے لمس سے کھلنے اور نہ چھلکنے والی ڈیجیٹل بوتل تیار،ورزش کے دوران، سفر میں یا کسی محفل میں بے خیالی میں چائے، پانی یا کسی مشروب سے بھری بوتل چھلک جاتی ہے۔ اب ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے اس کا الیکٹرونک حل تلاش کیا ہے جو ’لِڈ‘ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔جاگنگ اور ڈرائیونگ کے دوران بھی کھلی ہوئی بوتل سے پانی چھلک جاتا ہے۔ اسی لیے لِڈ میں ایک خاص سینسر لگایا گیا ہے جو ہونٹوں کو محسوس کرتے ہی بوتل کے دہانے پر موجود باریک رکاوٹ کھول دیتا ہے اور آپ آسانی سے مشروب پی سکتے ہیں۔ ہونٹ ہٹتے ہی مائع کا راستہ دوبارہ بند ہوجاتا ہے۔اس میں ایک خاص ٹچ سینسر لگایا گیا ہے جس پر ہونٹ لگتے ہی وہ ڈھکنے پر لگی چھوٹی موٹر کو گھماتا ہے اور بوتل کا منہ پانی کےلیے کھل جاتا ہے۔ اس طرح آپ بوتل کے اوپری حصے سے کسی بھی جانب سے پانی یا کافی پی سکتےہیں۔ہونٹ ہٹتے ہی بوتل کی موٹر ایک بار پھر گھومتی ہے اور اس کا ڈھکنا بند ہوجاتا ہے۔ اسمارٹ بوتل کو چارج ہونے میں چار گھنٹے لگتے ہیں اور اس کے بعد دو ہفتے تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بوتل وائرلیس چارج ہوتی ہے۔ویکیوم والی اس بوتل کو دو مختلف سائزوں میں فروخت کیا جائے گا چھوٹی بوتل کی قیمت 39 ڈالر اور بڑی بوتل کی قیمت 44 ڈالر ہے۔

Continue Reading

ٹیکنا لوجی

ڈاکٹروں سے چھٹی

Published

on

ڈاکٹروں سے چھٹی

مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس یا اے آئی) کو طب میں استعمال کرنے والی ایک مشہور برطانوی کمپنی کا بنایا ہوا سافٹ ویئر کسی ڈاکٹر کے بغیر آنکھوں کے 10 امراض کی عین اسی طرح شناخت کرسکتا ہے جس طرح ایک تجربہ کار ماہرِ چشم اپنی رائے قائم کرتا ہے۔مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے اس پروگرام کو تربیت دینے کے لیے 15 ہزار سے زائد مریضوں کا ڈیٹا لے کر سافٹ ویئر کو اس پر تربیت دلوائی گئی ہے۔ ان میں سے کئی مریضوں کے ریٹینا اسکین کا ڈیٹا جمع کیا گیا تھا جسے او سی ٹی اسکین بھی کہا جاتا ہے۔اس کمپیوٹر نظام کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ بروقت شناخت کرکے اس سے کئی افراد کی بینائی بچائی جاسکتی ہے۔ کیونکہ آنکھوں کے مرض کی بروقت شناخت کرکے آنکھوں کے کئی امراض سے بچا جاسکتا ہےیہ سافٹ ویئر 94 فیصد کیسوں میں آنکھوں کی 50 بیماریوں کی درست نشاندہی بھی کرسکتا ہے۔ سافٹ ویئر ہنگامی حالت مثلاً آنکھوں کے ریٹینا میں سوراخ یا میکیولر ڈی جنریشن کی صورت میں فوری طور پر بتاتا ہے کہ کس مریض کو پہلے توجہ کی ضرورت ہے۔اس تکنیک کے شریک سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ سلیمان ہیں جو کہتے ہیں کہ بہت جلد مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا میں آنکھوں کے امراض کی شناخت میں استعمال کرنا ممکن ہوگا۔اسے بنانے والی ٹیم کے مطابق اگلے تین سال میں برطانیہ کے 30 سے زائد اسپتال اس تکنیک کو استعمال کررہے ہوں گے۔ اس طرح آنکھ، دماغ اور دیگر کئی امراض کی شناخت میں مصنوعی ذہانت ڈاکٹروں کی مددگار اور معاون ثابت ہوسکے گی۔

Continue Reading

مقبول خبریں