2018 کے نوبل انعام برائے طبیعیات کا اعلان

رائل سویڈش اکیڈمی نے سال 2018 کے نوبل انعام برائے طبیعیات کا اعلان کردیا ہے۔ اس سال فزکس کا نوبل انعام ایسے تین سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دیا جارہا ہے جنہوں نے لیزر پر مبنی ایجادات کے ذریعے اس شعبے کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آرتھر ایشکن، جیرارڈ مورو اور ڈونا اسٹرکلینڈ نے لیزر فزکس کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

جیرارڈ مورو اور ڈونا اسٹرکلینڈ نے لیزر شعاعوں کو اتنے کم اور مختصر رقبے پر مرکوز کرنے میں کامیابی حاصل کی جس کے ذریعے خلیوں اور وائرس جیسے خردبینی جانداروں کو ’’لیزر شکنجے‘‘ میں جکڑا جاسکتا ہے اور اس طرح انہیں تباہ کرنے سے لے کر علاج معالجے تک، کئی کام بخوبی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اس سال نوبل انعام برائے طبیعیات کی نصف رقم ان دونوں ماہرین میں مساوی طور پر تقسیم کی جارہی ہے۔

آرتھر ایشکن کو نوبل انعام برائے طبیعیات کی نصف رقم کا حقدار قرار دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ’’ایٹو سیکنڈ لیزر‘‘ (Atto Second Laser) نہ صرف ایجاد کی تھی بلکہ اسے بہتر بناتے ہوئے حساس نوعیت کے سائنسی و تحقیقی تجربات اور مشاہدات میں استعمال بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایک آٹو سیکنڈ سے مراد ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کا بھی ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ایٹو سیکنڈ لیزر بلاشبہ بہت غیرمعمولی ایجاد ہے جس کی بدولت سائنس کی دنیا میں وہ مشاہدات بھی ممکن ہوئے جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھے۔

یاد دلاتے چلیں کہ مصر کے ڈاکٹر احمد زویل کو 1999 میں کیمیا کا نوبل انعام ’’فیمٹو سیکنڈ لیزر‘‘ (Femto Second Laser) کی ایجاد اور اطلاق پر دیا گیا تھا۔ (ایک فیمٹو سیکنڈ، ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کا بھی دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے۔) 19 سال بعد یہ دوسرا موقعہ ہے جب بطورِ خاص لیزر فزکس کے شعبے میں نوبل انعام دیا جارہا ہے۔ لیزر کی ایجاد پر پہلی بار 1964 میں ایک امریکی اور دو روسی سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد پہلی بار کسی خاتون کو نوبل انعام برائے طبیعیات میں شریک قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح ڈونا اسٹرکلینڈ، نوبل انعامات کی 118 سالہ تاریخ میں وہ تیسری خاتون بن گئی ہیں جنہیں فزکس کا نوبل انعام دیا جائے گا۔