Khouj English Advertising Privacy Policy Contact Us
Connect with us

ٹیکنا لوجی

قدیم ترین ستاروں میں سے ایک دریافت

Published

on

stars

ہماری کائنات لامحدود حیرت انگیزیوں سے بھری ہوئی ہے اور اب ماہرین نے کائنات کے ایک گوشے میں قدیم ترین ستاروں میں سے ایک دریافت کیا ہے جو بگ بینگ کے عمل کے بعد کائنات کی پیدائش کے فوراً بعد وجود میں ا?یا تھا اور یہ ستارہ ساڑھے 13 ارب سال پرانا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ستارہ ساڑھے 13 ارب سال قدیم ہے لیکن ہماری ملکی وے کہکشاں کے پڑوس میں موجود ہے اور اس خبرکا یہ پہلو سب سے حیرت انگیز ہے۔ فلکیات دانوں نے اسے 2MASS J180820021505104378 B کا پیچیدہ نام دیا ہے اور شاید یہ اب تک ہماری معلومات کے مطابق کائنات کا سب سے پرانا ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔
اس کا اہم ثبوت یہ ہے کہ ابتدائی کائنات میں دھاتیں موجود نہیں تھیں اور اس نودریافت ستارے میں ہماری اب تک کی معلومات کے مطابق سب سے کم دھاتیں ملی ہیں۔ کائناتی ارتقا کے تحت پہلی نسل کے ستاروں میں دھیرے دھیرے دھاتیں بننا شروع ہوئیں جو ان کے ہولناک اختتام پر پھٹ پڑنے سے پوری کائنات میں پھیلتی چلی گئیں۔
بگ بینگ کے بعد سے جو ستارے بنتے گئے ان کی نسلیں بھی وجود میں ا?تی گئیں مثلاً ہمارا سورج بگ بینگ سے کائنات کے ا?غاز کے بعد ایک لاکھویں نسل کا ستارہ ہے اور ہر نسل کے ستاروں میں دھاتوں کی تعداد درجہ بہ درجہ بڑھتی چلی گئی۔ اس ستارے میں دھاتوں کی مقدار بہت کم ہے یعنی ہماری زمین پر موجود دھاتوں کی مقدار کا صرف دس فیصد اس بڑے ستارے میں دیکھا گیا۔ اس مشاہدے سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں کی ستاروں کی طشتری (اسٹار ڈسک) ہمارے اندازوں سے بھی 8 سے 10 ارب سال مزید پرانی ہے۔
یہ ستارہ کہکشاں کے کنارے پر موجود ہے اور اس کی کمیت ہمارے سورج کے 10 فیصد حصے کے برابر ہے۔ اس کی دریافت سے ہمیں پتا چلا کہ کائنات کے ابتدائی ستارے ضروری نہیں کہ اتنے بھاری بھرکم اور بڑے تھے کہ ان کا تیزی سے خاتمہ ہوگیا بلکہ یہ ستارہ بہت کم مادے سے بنا ہے لیکن اس میں دھاتوں کی مقدار چند گرام تک ہی ہوگی!ماہرین کا خیال ہے کہ اس ستارے کو دیکھ کر بہت حد تک ہمیں ابتدائی کائنات اور ستاروں کو جاننے میں بھرپور مدد ملے گی۔

ٹیکنا لوجی

موہن جودڑو اورہڑپہ موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہ

Published

on

harpa

امریکی ماہرین نے کہا ہےکہ موسمیاتی تبدیلیاں قدیم تہذیب سندھ کے زوال کی اہم وجہ ہیں اور ان ہی کے باعث موہن جودڑو اور ہڑپہ تہذیب دھیرے دھیرے تباہی سے دوچار ہوکر فنا ہوگئیں۔

ہم جانتے ہیں کہ سندھ کی قدیم تہذیب کے دو بڑے مراکز ہڑپہ اور موہن جودڑو ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی اس کے مختلف آثار ملے ہیں۔ امریکا میں واقع وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ایک نئے تجزیے کے مطابق عمدہ شہر، گودام، نکاسی کے نظام اور بہترین شہری سہولیات ہونے کے باوجود چار ہزار سال پرانی یہ تہذیب آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے روبہ زوال ہوکر فنا ہوگئی تھی۔

1800 قبل مسیح میں قدیم تہذیب کے باشندوں نے اس شہر کو خیرباد کہنا شروع کیا اور ہمالیہ کے دامن میں جاکر چھوٹے چھوٹے گاؤں میں رہنا شروع کردیا۔ ووڈ ہولز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے یہ خطہ ناقابلِ رہائش ہونے لگا تھا۔

2500 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب کا موسم بدلنا شروع ہوا اور موسمِ گرما کا مون سون نظام دھیرے دھیرے کمزور پڑا۔ زراعت مشکل ہوگئی اور غلہ بانی بھی کم ہوتی گئی اور یوں یہ عظیم تہذیب اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔

اس ضمن میں وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ارضیات داں ڈاکٹر لائی ویو گایوسِن اور ان کے ساتھیوں نے اس پر تحقیق کرکے مقالہ شائع کیا ہے جو 13 نومبر 2018ء کے ’کلائمٹ آف دی پاسٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔ ماہرین  کہتے ہیں کہ مون سون کے بگاڑ نے پوری وادی میں کھیتی باڑی کو ناممکن بنادیا تھا۔

لیکن اس دوران بحیرہ روم کے طوفان ہمالیائی سلسلے سے ٹکراتے تھے اور پاکستانی علاقوں میں تھوڑی بہت بارش کی وجہ ضرور بنتے تھے لیکن مون سون نہ ہونے کی وجہ سے دریاؤں کا بہاؤ شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے وادی سندھ کے لوگوں نے دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کی اور یوں دھیرے دھیرے پوری بستی ہی خالی ہوگئی۔

اگرچہ اس کے آثار آج کی مٹی میں نہیں ملتے لیکن ماہرین نے پاکستانی ساحلوں اور سمندر کے کئی مقامات پر مٹی کے نمونے جمع کیے اور ان کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ان نمونوں میں یک خلوی (سنگل سیل) پلانکٹن کا جائزہ لیا جنہیں ’فورا مینی فیرا‘ یا مختصراً فورمز کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کونسا پلانکٹن سرد موسم اور کونسا موسمِ گرما میں پروان چڑھا۔

اس طرح انہوں نے خطے کے قدیم جینیاتی مادے کا بغور مطالعہ کیا ۔ اس دوران دریا اور سمندر کے کنارے کے علاقے میں موجود قدیم مٹی اور خود اس میں موجود قدیم پلانکٹن سے ہزاروں سال قدیم موسم کا ایک نقشہ مرتب کیا جس سے معلوم ہوا کہ کس طرح گرمیوں کا مون سون کمزور اور سردیوں کا مون سون توانا ہوا اور اس سے زراعت ناممکن ہوگئی۔

اگلے مرحلے میں لوگوں نے ماضی کے ان عظیم شہروں کو چھوڑنا شروع کیا اور یوں وہ کئی صدیوں میں تتربتر ہوکر علاقے کے دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے اور یوں یہ موئن جودڑو اور ہڑپہ ویران ہوتے چلے گئے۔

Continue Reading

ٹیکنا لوجی

پرانے کپڑوں سے تعمیراتی مٹیریل کی تیاری

Published

on

OLD CLOTHES

غیرضروری کپڑوں کو ریشوں(فائبرز) میں بدل کر انہیں ٹائلوں اور دیوار کے ٹھوس پینلوں میں تبدیل کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا ہے۔پوری دنیا میں متروکہ پرانے کپڑے ٹنوں وزنی کوڑا کرکٹ بناتے ہیں اور ان کا بظاہر کوئی مصرف نہیں تھا۔ اگرچہ پاکستان میں یہ بڑا مسئلہ نہیں تاہم امریکہ اور یورپ میں بہت تیزی سے کپڑے اور لباس الماریوں کی بجائے کوڑے دانوں میں پھینکے جاتے ہیں۔آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی سائنسداں وینا سہج والا نے برسوں غوروفکر کے بعد پرانے کپڑوں کو ریشوں میں بدل کر ان سے تعمیراتی مٹیریل تیار کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح پرانے کپڑوں سے عمارت کی ٹائلیں اور ٹھوس پینل بنائے جاسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ خود ان سے فرش بھی تشکیل دینا ممکن ہے۔

اس کے لیے وینا نے مختلف اقسام کے پرانے کپڑے جمع کئے۔ ہر ایک کپڑے سے زِپ، بٹین اور ٹھوس اشیا نکالی لیں اور اس کے بعد کپڑے کو نرم کرکے ایک انتہائی نفیس شریڈر مشین سے گزارا جس سے کپڑا ایسے باریک ریشوں میں بدل کیا جس میں سوتی، پولی ایسٹر، نائلون اور دیگر اقسام کے ریشے موجود تھے۔اس کے بعد ان میں ایک کیمیکل ملاکر سب ریشوں کو جوڑا گیا اور ایک شکنجے میں دباکر ٹھوس شکل میں ڈھال لیا گیا۔ اس کے بعد اس مٹیریل کی کئی طرح سے آزمائش کی گئی۔ کئی ٹیسٹ میں اسے واٹر پروف، مضبوط ، ٹھوس اور آگ سے محفوظ پایا گیا۔ اس مادے کی افادیت بڑھانے کے لیے اس میں لکڑی کا برادہ اور دیگر اجزا مثلاً فلیس وغیرہ بھی شامل کئے جاسکتے ہیں ۔ اس طرح حسبِ خواہش نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کپڑوں سے بننے والا ٹھوس مٹیریل مختلف رنگ، ڈیزائن اور کیفیات کا حامل ہیں یعنی بعض پر لکڑی، پتھر یا سرامک کا گمان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ گھریلو ٹائلوں پینل اور دیگر اندرونی آرائش کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اپنی مضبوطی کی بنا پر مٹیریل عام تعمیراتی اشیا کی طرح وزن سہارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے بعد وینا اور ان کے ساتھیوں نے یونیورسٹی کی عمارت میں ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اس کی تجارتی تیاری کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے اور اگر ایسا ہوگیا تو سستی عمارت سازی کے لیے ماحول دوست مٹیریل فراہم ہوسکے گا۔

Continue Reading

ٹیکنا لوجی

ایپل نے خامیوں کا اعتراف کرلیا

Published

on

i phone

اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ بنانے والی مشہور کمپنی ایپل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی 13 انچ میک بک پرو (بغیر ٹچ بار کے) اور آئی فون ایکس میں کچھ ہارڈویئر مسائل ہیں، سب سے پہلے بلومبرگ ویب سائٹ نے اس پر ایک مضمون شائع کیا تھا جس کے ردِعمل میں کمپنی کا اعتراف سامنے آیا ہے۔

ایپل نے کہا ہے کہ میک بک پرو اور آئی فون ایکس میں ڈسپلے اسکرین پر ٹچ کے مسائل سامنے آئے ہیں جو کچھ اس طرح ہیں:

جیسے ہی کوئی اسکرین پر ٹچ کرتا ہے تو اسکرین یا اس کا کچھ حصہ اس کا ردِعمل نہیں دیتا اور جامد ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب نہ چھونے کے باوجود بھی اسکرین تبدیل ہوتی ہے اور ہدایات پر عمل کرتی ہے۔

ایپل نے مزید کہا ہے کہ جن افراد کے آئی فون ایکس اور میک بک پرو میں ایسے مسائل سامنے آرہے ہیں وہ مجاز اسٹور سے مفت میں اسے تبدیل کروا کر نیا فون یا میک بک پرو حاصل کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی ایپل کے صارفین کئی آن لائن پلیٹ فارمز پر مصنوعات کی خرابی کی شکایت کرچکے تھے۔ 2016ء میں بھی آئی فون 6 پلس میں ٹچ اسکرین کے عین ایسے ہی مسائل سامنے آئے تھے اور ایپل نے اس وقت یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے صارفین سے 149 ڈالر کی رقم مانگی تھی۔

13 انچ والی میک بک پرو کی فروخت جون 2017ء میں شروع کی گئی تھی اور دوبارہ جون 2018ء میں اسے بیچا گیا تو معلوم ہوا کہ اس میں ڈیٹا ضائع ہورہا ہے اور ہارڈ ڈرائیو بھی فیل ہورہی ہے پھر کمپنی نے اس کی مرمت کی مفت پیشکش کی تھی۔

Continue Reading
Advertisement

مقبول خبریں