چہرے کے ذریعے بیماری کی شناخت کرنیوالا نظام

کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی جدید صنف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے موروثی بیماریوں کی شناخت کرنیوالا نظام کے ذریعے چہرہ دیکھ کر بیماری کے بارے میں علم ہو جائیگا ۔

نیورل نیٹ ورکس استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی کمپنی سے وابستہ یارون گرووچ اور ان کے ساتھیوں نے نظام بنایا ہے جو مجموعی طور پر پورا چہرہ دیکھتا ہے اور اس کے بعد مصنوعی ذہانت ( اے آئی) استعمال کرتے ہوئے پانچ یا دس امراض کی فہرست دیتا ہے جس میں سے مریض کے ممکنہ طور پر کسی ایک جینیاتی بیماری میں مبتلا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ ٹرینڈ یا تربیت یافتہ نیورل نیٹ ورک میں 17 ہزار ایسی تصاویر کا ڈیٹا موجود ہے جو کسی نہ کسی مرض کا شکار ہونے والے لوگوں کی ہیں۔ اس طرح یہ نظام 200 جینیاتی امراض یا عارضوں کی شناخت کرسکتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے 91 فیصد درستگی شرح کے ساتھ اس مرض کو جاننے میں مدد لی جاتی ہے۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ نظام کاروباری کمپنیوں کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اسے کمرشل سطح پر استعمال کریں گی جس سے معاشرے میں بگاڑ کے خطرات درپیش ہو جائیں گے تاہم کمپنی نے موقف دیا ہے کہ یہ نظام صرف ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو ہی فروخت کیا جائے گا، اس کے باوجود اس سافٹ وئیر کے منفی استعمال کا راستہ بند کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔