فلم ’چیٹ انڈیا‘ پرسنسرکی قینچی چل گئی

 بھارت کے تعلیمی نظام کا پردہ چاک کرنے والی بالی ووڈ کی نئی فلم ’چیٹ انڈیا‘ ریلیز سے قبل تنازع کا شکار ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق سومک سین کی ہدایت کاری میں بنائی جانے والی  فلم کو ریلیز سے ایک ہفتے قبل بڑا دھچکا لگا، بھارتی سینسر بورڈ نے فلم کا نام تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ چیٹ انڈیا کے نام کی وجہ سے ملک کا تشخص مجروح ہوگا، لہذا اس کا نام تبدیل کیا جائے یا پھر ریلیز کی اجازت نہ دی جائے۔

سی بی ایف سی بورڈ نے فلم کے نام کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس کو تبدیل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد ہدایت کار نے اس کا نئے نام کا اعلان کردیا۔ سومک سین نے اعلان کیا کہ چیٹ انڈیا کا نام اب ’وائی چیٹ انڈیا‘ ہوگیا، سی بی ایف سی نے فلم کے تمام مناظر کو کلیئر کیا۔

دوسری جانب فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے عمران ہاشمی نے بھی فلم کا نام تبدیل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید نام سے غلط تاثر پیدا ہورہا تھا مگر عوام کو فلم میں وہ تمام مسائل اور خامیاں دکھائیں گے جو ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں‘۔

عمران ہاشمی کا کہنا تھا کہ ’میں نے خود دیکھا امتحانات میں پرچہ لیک ہوجاتا ہے، میرے کئی دوستوں نے اسی طرح اچھی پوزیشنز حاصل کیں، طالب علموں کا مستقبل تباہ کرنے کے پیچھے ایک مافیا ملوث ہے جس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی‘۔

ممبئی میں اپنی فلم کی پروموشن ’چیٹ انڈیا‘ پر گفتگو کرتے ہوئے عمران ہاشمی کا کہنا تھا کہ بھارت کا تعلیمی نظام ایسا نہیں کہ طالب علم پڑھنے کے بعد ایک قابل اور اچھا انسان بن سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے نزدیک ایسے نظامِ تعلیم سے نوجوانوں کا مستقبل بننے کے بجائے تاریک ہوتاہے، ہمارے تعلیمی نظام میں جس طرح امتحانات پاس کیے جاتے ہیں اُس کے بارے میں سب بخوبی واقف ہیں‘۔

You might also like